مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 72
130 distillation, calcination, solution, evaporisation, sublimation, crystallization, filtration, amalgamation, and ceration۔سر الاسرار میں اس نے (1) چھ قسم کی معدنیات کی شناخت بتائی۔(2) چار قسم کی اسپرٹ (spirit)، پارہ ( mercury)، امونیا (ammonia)، گندھک (sulphur) اور ریا لنگر (Realgar) یعنی ریڈ سلفائیٹ آف آرسینک (red sulphite of arsenic) (3) سات قسم کی دھاتیں (4) چھ قسم کے بوریکس (borics) بشمول بو ریکس اور نظرون Natron) (5) گیارہ قسم کے نمکیات ، راک سالٹ rock salt)، چونا (lime)، پوٹاش (potash)، مائیکر و کامک (microcosmic) سالٹ ، الکلی (alkali)(6) پوٹاشیم کا کیمیکل سمبل K اسی سے ماخوذ ہے۔(7) تیرہ قسم کے پتھر مثلاً malachite (copper oxide), haematite (ferric oxide), gypsum (calcium sulphate) & alum (8) چھ قسم کے سلفیٹ بیان کئے۔نظرون سوڈیم کاربونیٹ اپنی اصلی حالت میں مصر کے مغربی صحرا میں پایا جاتا ہے۔نظرون کے لفظ سے انگریزی کا لفظ (Natron) اخذ ہوا ہے۔سوڈیم کے لئے اس کا سمبل Na ہے۔رازی نے کاسٹک سوڈا ( سوڈیم ہائیڈ رو آکسائیڈ ) بنانے کی ترکیب بھی دی ہے۔سر الاسرار کا ترجمہ جرمن میں رسکا (Ruska) نے کیا۔ایک یورپین دانشور اسٹیپل ٹن (Stapleton) نے رازی کو گیلی لیو ( Galileo) اور بائل (Boyle) سے اول درجہ کا سائنس داں قرار دیا ہے۔اس نے 184 کتابیں تصنیف کیں جن میں سے ہیں کے قریب فارسی میں علم کیمیا پر تھیں : کتاب مدخل تعلیمی، اثبات صنعت، کتاب سنگ ، کتاب تدبیر، کتاب اکسیر، کتاب شرف صنعت، کتاب ترتیب، کتاب تدابیر، کتاب شواہد، کتاب آزمائش زر وسیم، کتاب سر حکیماں، کتاب سر، کتاب سرسر - آرزوئے آرزو خواہ ، کتاب طبیب، کتاب الخواصان 131 میں کتاب سر الصناعةہ کا قلمی نسخہ اسکور یال اور لیپزگ میں موجود ہے۔اس کی دوسری کتابوں میں کتاب طب النفوس اور طب الروحانی ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہالینڈ میں رازی کی کتابیں سترہویں صدی تک یونیورسٹی کے نصاب میں شامل تھیں۔محمد ابن عمیل تمیمی (960-900ء) نے کتاب الماء الورقی والارض الحجہ میںلکھی جس کا لاطینی میں ترجمہ بولا کیمیکا (Tabula Chemica) کے عنوان سے کیا گیا۔کیمیا پر اس کی دوسری پر از معلومات تصنیف رسالته الشمس الی الہلال کا ترجمہ بھی لاطینی میں کیا گیا۔اسلامی اسپین کا سب سے معروف کیمیا داں مسلمہ الحجر علی تھا جس نے اس موضوع پر دو کتا میں سپرد قلم کیں یعنی رتبات الحکیم اور غایة الحکم مؤخر الذکر کتاب کا ترجمہ بادشاہ الفانسو دہم کے حکم پر لاطینی میں پی کا ٹریکس (Picatrix) کے عنوان سے 1250ء میں اسپین کے ایک عالم نے کیا۔یہ کتاب یورپ میں قرون وسطی میں کیمیا کے علم پر مستند آخذ بھی جاتی تھی اور کئی سو سال تک درسی نصاب میں شامل رہی۔علم حیوانیات پر اس نے کتاب الحیوانات ترتیب دی۔ابو منصور موفق اگر چہ ماہر ادویہ تھا مگر کیمیا میں بھی اس نے بعض باتیں بیان کیں جو حیران کن ہیں: 1۔وہ پہلا شخص تھا جس نے سوڈیم کاربونیٹ اور پوٹاشیم کاربونیٹ میں فرق بتلایا کیونکہ ان میں فرق بہت ہی کم ہوتا ہے۔2۔اس نے سفید طوطیا (arsenious oxide ) کو خالص سفید پاؤڈر بتایا۔اس نے ایک اور سفید پاؤڈر کا ذکر کیا جس کو سلی سک ایسڈ (silicic acid) کہتے ہیں جو بانس سے حاصل ہوتا ہے۔3۔اس نے پلاسٹر آف پیرس بنانے کا طریقہ بیان کیا۔جسم (gypsum) کو گرم کرنے سے جو لیلشیئم آکسائیڈ (calcium oxide) بنے گا اس میں انڈے کی سفیدی ملانے سے پلاسٹر آف پیرس بنتا ہے جو ٹوٹی ہڈیوں کو جوڑنے میں کام آتا ہے۔