مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 7
1 1 تعارف لفظ ”سائنس لاطینی زبان سے ماخوذ ہے۔اس کے لغوی معنی علم کے ہیں۔سائنس، کائنات اور فطرت کے حقائق کے علم کا نام ہے کسی خود ساختہ علم کا نام نہیں۔فطرت میں موجود اشیا کی چھپی ہوئی حقیقتوں کے جاننے کا نام سائنس ہے۔چونکہ یہ کارخانہ قدرت خدا کا تخلیق کردہ ہے،اس لئے ان اشیا کا جو بھی حصہ سائنس دریافت کرتی ہے وہ فی الحقیقت مالک کائنات کی کارفرمائیوں کی ایک جھلک ہوتا ہے۔گویا کائنات خدا کا کام اور آسمانی صحیفے اس کا کلام ہیں۔مناظر قدرت، ماڈے اور مختلف توانائیوں کی خصوصیات اور ان کے آپس کے تعلقات کو سمجھنے کا نام بھی سائنس ہے اور جب روز مرہ کے کاموں میں سائنس استعمال میں آتی ہے تو ٹیکنالوجی کہلاتی ہے۔سائنس کا آغاز یونان سے ہوا جو ساتویں صدی عیسوی تک اس کرہ ارض پر سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا۔یہ ملک تمام علوم وفنون کا مرکز تھا۔دنیا کے جملہ ممالک کے محققین (scholars) علم وفن صنعت و حرفت اور سائنس و ٹیکنا لو جی سیکھنے کے لئے یہاں آیا کرتے تھے۔یونانی سائنس کی شروعات علم ریاضی سے ہوئی۔آرشمیدس (Archimedes) اور فیثا غورث (Pythagoros) یونان کے دو عظیم ریاضی داں تھے۔آرشمیدس نے میکانیات ( Mechanics) کے موضوع پر بہت تحقیق کی۔سائنس کا ہر طالب علم آرشمیدس پرنسپل ( Archimedes Principle) اور آرشمیدس پرابلم ( Archimedes Problem) سے واقف ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ جب ایک مسئلے کا حل اسے مل گیا تو وہ بازار میں بھاگتا جاتا اور کہتا 156 167 177 182 214 223 233 236 13 - علم فلسفہ 14 - علم تاریخ 15- علم موسیقی 16۔مسلمانوں کی ایجادات 17 - اسلامی کتب خانے 18 - ہندوستانی اسلامی تہذیب اور سائنس حرف آخر مآخذ و مصادر