مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 29
45 44 نجم الدین شیرازی (1330ء) نے کتاب الحاوی فی علم التداوی ( حاوی صغیر ) لکھی جس میں اس نے بقراط، جالینوس کے علاوہ بہت سے مسلمان اطبا کی رائے بھی دیں۔مسعود سجزی (1334ء) نے حقائق اسرار طب لکھی۔مصر میں چودہویں صدی میں دو اور نامور طبیب پیدا ہوئے یعنی اکفانی اور ابراہیم شاد بلچپس۔ابراہیم شاد نے چودہویں صدی میں امراض العین پر ایک کتاب لکھی جس سے مصر میں آنکھ کے آپریشن کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔اسی طرح ایک اور طبیب داؤ دانطا کی (وفات 1599ء قاہرہ) جس کی کتاب الذخیره (Treasury) بہت مشہور ہے۔حاجی زین العطار (متوفی 1403ء ) ایران کے حکمراں شاہ شجاع کا 1358ء سے 1384 ء تک شاہی طبیب تھا۔اس نے فارسی زبان میں ضخیم کتاب اختیارات بدیعی مرتب کی۔محمد ابن یوسف زہروی (متوفی 1518ء) نے ایک طبی لغت تیار کی جو حروف تہجی کے مطابق تھی۔اس میں تشریح، علم الامراض (Pathology)، ادویہ اور اطبا کے نام تمجی وار دیے گئے ہیں۔” بحر الجوہر" کا مخطوطہ نیشنل لائبریری آف میڈیسن، میری لینڈ، امریکہ۔National Library of Medicine, Maryland, USA) میں موجود ہے۔حکیم سلطان علی طبیب خراسانی (1526ء ایران) نے خراسان اور سمرقند میں چالیس برس کے مطب و معالجہ اور تحقیق و تدقیق کے بعد دستور العلاج فارسی زبان میں لکھی تھی۔ابن حسین حنفی (1593ء) نے طب نبوی پر ایک مفید کتاب لکھی۔مصنف کے اپنے ہاتھ سے کتابت کیا ہوا ایک مخطوطہ نیشنل لائیبری آف میڈیسن، امریکہ میں موجود ہے۔نورالدین محمد عبد اللہ شیرازی (سترہویں صدی) نے شاہ جہاں کے دور میں طب دارا شکوہی کتاب لکھی جس میں یونانی اور ہندی علم طب کا نچوڑ پیش کیا گیا تھا۔یہ دارا شکوہ کے نام معنون تھی۔اس نے علم الادویہ کی ایک لغت تیار کی جس کا نام الفاظ الا دو یہ تھا۔یہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے نام معنون تھی۔مقصود علی طبریزی (1602 ء ایران) ہندوستان کا عظیم ترجمہ نگار تھا جس نے مغل بادشاہ جہانگیر کے حکم پر عربی سے متعدد کتابوں کے فارسی میں تراجم کیے۔ترکی کے صالح ابن نصر ابن سولم (1669ء) نے جو سلطان محمد چہارم کا شاہی طبیب تھا، غایتہ الاتفاق فی تدبیر بدن الانسان لکھی جس میں نئے نئے امراض جیسے اسکروی (scurvy) کلوروسس (chlorosis)، اینیمیا (anemia ) ،انگلش انگلش سوئٹ یعنی انفلوئنزا (english sweat or influenza) کا ذکر کیا۔حکیم محمد اکبر ارزانی (1722ء) نے قرابادین قادری تدوین کی جسے اپنے مرشد حضرت غلام عبد القادر جیلانی کے نام سے معنون کیا ہے۔میزان الطب اور مجربات اکبری کے علاوہ انہوں نے مفرح القلوب کے نام سے قانونچہ کی شرح لکھی اور القانون فی الطب کی تلخیص کی۔محمد مہدی ابن علی نقی (1728ء) نے زاد المسافرین فارسی زبان میں لکھی جو مسافروں کے لیے علاج اور حفظانِ صحت کے موضوع پر تھی۔رستم جرجانی (سولہویں صدی، احمد نگر ) دکن کے حکمراں خاں احمد جیلانی اور نظام شاہ برہان کا شاہی طبیب تھا۔اس نے فارسی زبان میں طب پر کئی تصانیف قلم بند کیں، نیز ایک قرابادین بھی مرتب کی جو بہت مفید اور کار آمد تھی۔مصطفیٰ بہجت آفندی (1833ء ہتر کی) ترکی سلطان کا استنبول میں رئیس الاطبا (Royal Chief Physician) تھا۔اس نے القانون فی الطب کا ترکی میں ترجمہ کیا۔اس کا مخطوطہ نیشنل لائبریری آف میڈ لین، امریکہ میں موجود ہے۔حکیم محمد شریف خاں (1805ء، ہندوستان) مغل حکمراں شاہ عالم (1806-1759 ء ) اور اس کے بیٹے اکبر شاہ ثانی کا طبیب خاص تھا۔نیز ہندوستانی اردو یہ پر ایک کتاب تالیف شریفی لکھی۔اس کی تمام تصنیفات عربی اور فارسی میں تھیں۔حکیم شریف خان مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا جد امجد ہے۔اسلامی اسپین کے طبیب اسلامی اسپین نے بھی بہت سے یگانہ روزگار طبیب پیدا کیے جن کی موقر تالیفات و تصنیفات نے گہرے اثرات مرتب کئے۔ان میں سے حسدے (ترجمہ نگار ) ، ابن الجزار ( کتاب زاد المسافر)، عریب ابن صاعد القرطبی ( خلق الجنين)، ابن الجبل ( تاریخ الاطبا الحکما تغییر اسماءالا دوبی،