مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 27
41 40 مصر کے علی ابن رضوان (1067-998 ء) نے بقراط اور جالینوس کی کتابوں کی شرحیں لکھیں اور بغداد سے قاہرہ میں آئے ہوئے ابن بطلان کے ساتھ صحت اور طب کے موضوع پر مناظرے کیے۔قاہرہ کے ہسپتال اور کتب خانے اس وقت پوری دنیا کے لیے مرجع خاص و عام تھے۔اس لئے عالم اسلام کے طبیب یہاں ہجرت کر کے آباد ہو جاتے تھے۔حفظانِ صحت پر اس نے فی دفع مضار الا بدان بارض مصر لکھی۔ابوعلی عیسی ابن جزلہ ( 1100ء، بغداد) نے تقویم الا بدان فی تدبیر الانسان لکھی جس میں 352 بیماریوں کے جدول دیے گئے تھے۔اس میں ہر بیماری کی شناخت اور اس کا علاج دیا گیا تھا۔خلیفہ المقتدی (1094-1075ء) کے لئے اس نے منہاج البیان لکھی جس میں ادویات حروف تہجی کے مطابق درج کی گئی تھیں۔سعید ابن ہبت اللہ (1102ء، بغداد) خلیفہ المقتدی کے دور حکومت کا طبیب اور فلسفی تھا۔اس نے کتاب المنغنی کی تلخیص تیار کی۔پیدائش انسان پر مقالہ فی خلق الانسان لکھا جس میں حمل، روح افزائش، تنزل، وضع حمل ، ولادت، مدت حمل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔نجیب الدین سمرقندی (1222ء، ہرات ) نے الاسباب والعلامات لکھی جس کی شرح نفیس کرمانی نے سپر قلم کی علم الادویہ (Pharmacology) پر اس نے اصول ترکیب الادویہ اور ادویہ المفردة لکھیں۔مریضوں کے لئے کتاب اغذیہ المرضی تھی۔جوڑوں کے درد کے لئے اس نے فی مدوات وجعل المفاصل لکھی۔آنکھوں کے عوارض پر اس نے فی کیفیات ترکیب طبقات العین لکھی۔قرابادین ( میڈیکل فارمولری) میں فی معالجات الامراض اور فی الادویہ استعمله عند الصیادہ تھیں۔شمس الدین شہر زوری نے 1282ء میں تاریخ طب پر ایک مفید کتاب عہد اسلامی سے قبل کے 34 اور اسلامی عہد کے 77 حکماء اور اطبا کے حالات اور اقوال زریں پر لکھی تھی۔طبریزی نے اس کتاب بائیوگرافیکل ڈکشنری (Biographical Dictionary) کا ترجمہ کیا۔ابن النفیس قرشی (1288-121 ء ، دمشق اور مصر ) نے طبی تعلیم دمشق کے معروف ہسپتال بیمارستان النوری میں حاصل کی جس کی بنیاد نور الدین زنگی نے رکھی تھی۔طب کے علاوہ اس نے فقہ، ادبیات (literature) اور دینیات کا علم بھی حاصل کیا۔1236ء میں وہ قاہر منتقل ہونے پر المنصوری ہسپتال میں رئیس الا طبا مقرر ہوا۔اس کے بعد حاکم مصر کا شاہی طبیب بھی بنا۔وفات سے قبل اس نے اپنا گھر ، ذاتی لائبریری اور شفاخانہ منصور یہ ہسپتال کے نام وقف کر دیا۔ابن النفیس طب پر ایک انسائیکلو پیڈیا تین سو جلدوں میں احاطہ تحریر میں لانا چاہتا تھا۔چنانچہ اس نے تعلیم کتاب الشامل فی الطب تصنیف کی جس کا ایک مسودہ دمشق میں محفوظ ہے۔ابن سینا کی القانون کے حصہ تشریح (anatomy) پر اس نے شرح تشریح القانون (1242ء) لکھی ، اس شرح میں اس نے پھیپھڑوں کی ساخت کو صحیح طور پر بیان کیا اور انسانی جسم میں دورانِ خون کی تفصیل درج کی۔اس نے دل سے عمل اور خون کی شریانوں کے بارے میں نئی معلومات مہیا کیں۔جدید تحقیق کے مطابق وہ پہلا طبیب تھا جس نے ریوی دوران خون دریافت کیا۔اس انقلابی دریافت نے جالینوس جیسے عہد قدیم کے طبیب اعظم کے نظریے کو باطل قرار دیا جس نے کہا تھا کہ خون قلب کے دائیں طرف سے سیدھا بائیں طرف چلا جاتا ہے جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ خون دل کے دائیں جوف سے پھیپھڑوں میں سے گزر کر بائیں جوف میں جاتا ہے۔ابن النفیس نے یہ نظریہ ایسٹر یکٹ ریزنگ (abstract reasoning) سے دریافت کیا جبکہ یہی بات انگلینڈ کے بادشاہ چارلس اول (1-Charles) کے شاہی طبیب ولیم ہاروے (1657-1578ء) نے تین سوسال بعد انسانوں اور جانوروں کی چیڑ پھاڑ کے ذریعے دریافت کی تھی۔ابن النفیس کی اس حیرت انگیز دریافت کا علم دنیا کو مصر کے ڈاکٹر محی الدین الطاطائی کے ڈاکٹریٹ کے مقالے سے ہوا جو انہوں نے 1924ء میں جرمنی کی یونیورسٹی آف فرائی برگ (Freiburg) میں ڈاکٹریٹ کے لیے لکھا تھا۔ورنہ اہل یورپ اس کا سہرا ولیم ہاروے اور مائیکل سرویس کے سر ہی باندھتے رہتے۔