مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 26 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 26

39 38 حیثیت طبیب ابن سینا نے تپ دق کا متعدی ہونا دریافت کیا۔پانی ہٹی یا دھول سے مرض کا پھیلنا۔اس نے لکھا ہے کہ پانی کے اندر چھوٹے چھوٹے مہین کیڑے مائیکروب ) ہوتے ہیں جو انسان کو بیمار کر دیتے ہیں۔اس نے مین جائٹس (meningitis) کے مرض کی تشخیص کی۔اس نے نفسیاتی بیماریوں کی پہچان اور ان کا علاج بیان کیا۔جلد کی بیماریوں کو بیان کیا۔اس نے صحت پر آب و ہوا اور غذا کے اثرات کا بیان کیا۔اس نے مریضوں کو بے ہوشی کی دوا (oral anaesthetics) مثال افیون دینے کو کہا۔اس نے کہا کہ سرطان کی صورت میں جسم کے متاثرہ حصے کو کاٹ دینا مناسب ہے بلکہ رسولی (tumor) کی طرف جانے والی تمام رگوں کو بھی کاٹ دیا جائے اگر یہ کافی نہ ہو تو پھر اس حصے کو گرم لوہے سے داغ دیا جائے۔(جدید زمانے میں بھی بیطریقہ مروج ہے اور جلانے کے لیے لب ریڈی ایشن (radiation) کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے)۔اس نے پھیپھڑے کی جھلی کا ورم ( Pleurisy) معلوم کیا۔اس نے اختناق الرحم (hysteria) اور مرگی کے دوروں میں فرق واضح کیا۔اس نے بتلایا کہ سل (phthisis) کی بیماری متعدی ہوتی ہے۔شیخ الرئیس بو علی سینا کی ایک پینٹنگ جس میں ان کو۔طالب علموں کو طب کا درس دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے مشرق میں القانون فی الطب ابھی تک دنیا کی لازوال کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ایک ہزار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ مسلمہ کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔اگر ابن سینا اس صدی میں پیدا ہوا ہوتا تو یقین واثق ہے کہ اسے میڈیسن کے علاوہ دیگر مضامین میں نوبل پرائز (Nobel Prize) ضرور دیا جاتا۔یہ کہنے میں مجھے کوئی باک نہیں کہ اپندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ میں علیم معالجہ کا دارومدار اسلامی طب پر تھا۔مثلاً ایک اطالوی مصنف فراری ڈی گریڈو ( Ferraride Grado) نے اپنی کتابوں میں بوعلی سینا کا حوالہ تین ہزار مرتبہ دیا ہے۔جبکہ رازی اور جالینوس کی کتابوں کے حوالہ جات ایک ہزار مرتبہ دیے ہیں۔واضح رہے کہ اس مصنف نے یورپ میں طب پر سب سے پہلے جو کتاب شائع کی وہ رازی کی کتاب الحاوی کے نویں باب کا ترجمہ تھا۔ابن مسکویہ (1030ء) فارس کے بادشاہ عضد الدولہ کے ند مائے خاص میں شامل تھا۔اس نے طب ، منطق ، ریاضیات ، طبیعیات، حساب اور کیمیا پر کتابیں لکھیں۔اس نے فن وادب کی تاریخ بھی لکھی۔فن تاریخ پر اس کی کتاب تجارب الامم میں 983 ء تک کے واقعات درج ہیں۔ڈی گونجے (De Goeje) کا کیا ہوا تر جمہ لائیڈن ( Leiden) سے 1871 ء میں شائع ہوا۔چھ جلدوں میں کتاب آداب العرب والفرس فلسفہ پر اور اخلاق عالیہ پر تہذیب الاخلاق ، ترتیب السعادات، کتاب السیر، الفوز الاصغر، الفوز الاکبر ہیں۔کتاب الاشربہ طب پر ہے۔اس کے نزدیک طب کے دو حصے ہیں، ایک حصے میں حفظانِ صحت کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔دوسرے حصے میں زائل شدہ صحت کو بحال کیا جاتا ہے۔روحانی طب میں یہ دونوں حصے موجود ہیں۔اس نے حقیقی مسرت کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں: اچھی صحت، مال و دولت ، شہرت و نیک نامی ، مقاصد میں کامیابی ، خوش اعتقادی۔ابن بطلان (1066ء، بغداد) عیسائی طبیب تھا جس نے تقویم الصحہ کے نام سے کتاب لکھی۔اس کی افادیت کے پیش نظر اس کے تراجم لاطینی اور فرانسیسی میں کیے گئے۔اس نے راہبوں کے لیے بھی طب پر ایک کتاب لکھی جس کا مخطوط نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں موجود ہے۔ابن ابی صادق ( 1968ء ، ایران ) نے بقراط کی کتاب المفصول کی شرح بسیط لکھی، نیز جنین ابن اسحق کی مسائل فی الطب کی شرح لکھی اور الرازی کی شکوک علی بطلیموس کی بھی شرح لکھی۔