مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 93
173 172 میں پائی جاتی تھیں۔ابن القطیبہ (وفات 997ء) مشہور تاریخ داں اور قواعد صرف و نحو (gramer) کا ماہر تھا۔اس کی کتاب تاریخ الاندلس میں 893-750 ء تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔جبکہ دوسری کتاب الانفتاح الاندلس میں خلیفہ عبد الرحمن الثالث کے دور حکومت تک کے واقعات کا تذکرہ ہے۔کتاب التصريف الا فعال صرف ونحو کی پہلی کتاب تھی۔ابو وليد ابن الفرازی (1013-962ء) کی پیدائش قرطبہ میں ہوئی جہاں وہ قانون کے پیشے سے منسلک رہا۔حرمین شریفین کی زیارت کے بعد جب وہ واپس اپنے وطن آیا تو اس کو ویلینسیا (Valencia) کا قاضی مقرر کیا گیا۔اس کی تصنیف تاریخ علماء الاندلس (History of Scientists) میڈرڈ سے 1891 ء میں شائع ہوئی تھی۔ابن حیان القرطبی (988-1076ء) نے پچاس کتابیں تصنیف کیں جن میں امتین ساٹھ جلدوں میں تھی مگر اب یہ نایاب ہے۔دوسری تصنیف کتاب المقتبس فی تاریخ الاندلس (اندلس کے مسلمان حکماء کی سوانح عمری) دس جلدوں میں ہے اور ابھی تک دستیاب ہے۔یہ آخری بار پیرس سے 1937 ء میں منظر عام پر آئی تھی۔قاضی صاعد اندلسی (1070ء) طلیطلہ میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے۔تاریخ میں اس نے کتاب طبقات الام تصنیف کی جس کا اثر تاریخ دانوں پر ہمیشہ رہا اور اسے کثرت سے استعمال کیا گیا۔سائنس کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس نے کہا کہ آٹھ قوموں یعنی ہندی ، ایرانی ، کلدانی، یونانی، لاطینی، مصری، یہودی اور مسلمانوں نے سائنس کی ترویج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس نے یورپ کی اقوام کو تیسرے درجے کی قوموں میں شامل کیا۔طبقات کا فرانسیسی ترجمہ بلا شیر (R۔Blachere) نے کیا جو پیرس سے 1935ء میں شائع ہوا تھا۔مزید برآں، اس نے اندلس کے ممتاز علما پر بھی ایک کتاب لکھی جس میں مسلم اور غیر مسلم علما کو شامل کیا گیا تھا۔بلیت پر بھی اس نے ایک مقالہ لکھا جو اس کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا۔اجرام سماوی کے ان مشاہدات سے الزرقلی نے استفادہ کیا تھا۔ابن بسام (1147ء) نے اندلس کی ادبی تاریخ پر کتاب الذخیرہ تصنیف کی جس کا ادبی اسلوب اور طرز بیان منفرد تھا یہ معلومات کا نادر اور نایاب خزانہ تھا۔عبد الرحمن ابن خلدون ( 1406 - 1332ء ) جدید علم بشریات ( Modern Anthropology) کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔وہ اسلامی تہذیب و تمدن کی آخری عظیم علمی شخصیت تھی۔اس کے تبحر علمی اور فضیلت کا اندازہ ٹوئن بی (Toynbee) کے ان الفاظ سے ہوتا ہے: "He conceived and formulated a philosophy of history which is undoubtedly the greatest work of its kind۔" اس نے الفارابی اور ابن سینا کے خیالات سے اتفاق نہیں کیا اور اپنی کتابوں میں اس بات کا اظہار کیا کہ کس طرح ٹوپوگرافی (topography) اور ڈیموگرافی (demography) اور اقتصادی حالات انسان کی سماجی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اس نے تاریخ عالم کو مسلسل اجتماعی حرکت اور ارتقا پذیر قرار دیا۔بطور پیشہ وہ غرناطہ، فیض (مراکش) اور شام میں سفیر کے عہدے پر فائز رہا۔اس کو بحیثیت سفیر تیمور لنگ کے دربار میں بھی جانے کا شرف حاصل ہوا۔اس کا علمی شاہکار کتاب العبار و دیوان مبتداج و الخبار في ايام العرب والعجم سات جلدوں میں ہے۔پہلی جلد مقدمہ پر مشتمل ہے۔اس مقدمے نے بہت شہرت حاصل کی اور فی الحقیت یہ علم تاریخ کا شاہکار ہے۔اس مقدمے نے اس کے نام کوزندہ جاوید بنا دیا۔انیسویں صدی میں اس کا ترجمہ فرانسیسی میں ہوا اور 1958ء میں اس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔[49] ابن خلدون بہت حد تک عقلیت پسند تھا۔اس نے قرونِ وسطیٰ میں مسلمانوں کے علمی کارناموں کا سہرا غیر عرب مسلمانوں کے سر باندھا جس سے عرب دانشور اس کے خلاف ہو گئے۔مثلاً اس نے کہا کہ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ دین اور سائنس کے بہت سارے محقق غیر عرب