مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 87 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 87

161 160 کیمیائے سعادت ،مشکوۃ الانوار، قانون الرسول، معراج السالکین، میزان العمل قابل ذکر ہیں۔ان کتابوں کے تراجم یورپ میں کیے گئے اور یورپ کے بڑے بڑے مفکرین ، فلاسفہ اور مذہبی رہ نماؤں جیسے سینٹ ٹامس اکیونس (St۔Thomas Acquinas) کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے ان کے نظریات سے خوب استفادہ کیا۔ان کی تصنیف منیف شرح عجائب القلب کا ترجمہ جرمن زبان میں Die Wunder des Herzens کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ان کی آپ بیتی المنتقد من الضلال کا انگریزی ترجمہ کنگسٹن کی پبلک لائبریری میں موجود ہے۔اردو میں اس کا ترجمہ سرگزشت غزالی لاہور سے 1959ء میں شائع ہوا تھا۔احیاء العلوم کا ترجمہ محمد احسن نے کیا اور لکھنو سے 1955ء میں چار جلدوں میں شائع ہوا تھا۔شبلی نعمانی کی کتاب الغزالی لکھنو سے 1901 ء میں شائع ہوئی تھی۔ابن الہیشم (1039ء) بلند پایہ طبیب، مہندس، ماہر بصریات اور فلسفی تھا۔اس نے دو درجن کتابیں سنجیدہ فلسفیانہ مسائل پر لکھیں۔مقالہ فی العالم ، مقاله في الالم واللذة ، مقالة في صانع العالم، مقالة فی قدم العالم، مقالة فی بیت العالم ( اس آخری کتاب کو یہودی فاضل یعقوب بن ماہر نے عبرانی میں منتقل کیا ، پھر اس کے لاطینی اور ہسپانوی تراجم بھی کیے گئے )۔اسلامی اسپین نے جو مایہ ناز دانشور اور فلسفی پیدا کئے ان میں ابن حزم ، ابن ماجہ ، ابن طفیل اور ابن رشد صف اول کے فلسفیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔سر زمین اندلس نے تہذیب و ثقافت کے بہت سے چراغ روشن کیے جن کی ضیا پاشیوں نے یورپ سے جہالت کے پردے ہٹائے۔ان میں سے ایک یگانہ روزگار عالم ابن حزم (1064-994 ء ) تھا۔وہ قرطبہ میں پیدا ہوا۔خلیفہ عبد الرحمن الخامس کا وزیر بنا۔چند ماہ بعد سیاست سے کنارہ کش ہو کر تالیف و ترجمہ کے کام میں ہمہ تن مصروف ہوا۔وہ بیک وقت فلسفی ، مورخ، محدث، فقیہہ اور عربی کا زبردست ادیب اور شاعر تھا۔اس نے تقابلی مطالعہ ادیان (comparative study of religions) پردنیا کی سب سے پہلی کتاب الملل والنحل (Book of Sects) قلم بند کی۔اس نے اس کی چند فلسفیانہ تصنیفات جن میں اس نے علم و حکمت کے ایسے موتی نکالے کہ ان کی چمک سے آج بھی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں یہ ہیں: کتاب بین التورات والانجیل ، التقريب بعد المنطق ، كتاب شرح الموطاء مداوة النفوس۔اس کی تصانیف کی تعداد چار سو کے قریب ہے۔دیگر کتابوں کے نام ہیں: طوق الحمامه، کتاب الفصل فی الملل والنحل (اس کا اردو ترجمہ عبد اللہ آمدی نے کیا جو جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد، دکن نے 1945ء میں شائع کیا تھا) جوامع السیاسیة، کتاب الاحکام فی اصول الاحکام، ابطال القياس، تواریخ الخلفاء، ابطال القياس (منطق)۔ابو بکر ابن باجہ (1138ء) اندلس کا مشہور فلسفی، ادیب، شاعر اور حافظ قرآن تھا مگر اس کی شہرت عام طور پر فلسفیانہ علوم میں ہے۔مشاہیر اسلام میں اس نے سب سے پہلے ارسطو کی کتب کی تشریح و توضیح کی طرح ڈالی۔لسان الدین الخطیب نے اس کو اندلس کا آخری فلسفی قرار دیا ہے۔اندلسی مؤرخ ابن سعید نے اپنی کتاب نفح الطیب میں لکھا ہے کہ اس کو مغرب میں وہی درجہ حاصل تھا جو مشرق میں الفارابی کو حاصل تھا۔عبد السلام ندوی نے حکمائے اسلام میں اس کی بائیس فلسفیانہ تصنیفات کے نام گنائے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: کتاب اتصال العقل، رسالۃ الوداع، کتاب تدبير المتوحد، کتاب النفس [44]۔اس کی آزاد خیالی کی بنا پر علمائے اندلس نے اس پر فتوئی تکفیر لگایا تھا۔اس نے امام غزالی کے اس نظریے کو کہ حقیقت کا مشاہدہ صرف وجدان سے ہو سکتا ہے اور وجدان سے ہی سکونِ قلب جنم لیتا ہے، ہدف تنقید بنایا۔اس کے نزدیک حصول مسرت کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان علما و حکماء سے ملے اور محبت کو اوڑھنا بچھونا بنائے۔ابن طفیل (1185ء) غرناطہ میں وزارت کے منصب پر فائز رہا۔اس کا وجد آفریں فلسفیانہ ناول ”حتی ابن یقطان ہے جس میں اس نے اپنے فلسفیانہ خیالات کہانی کی صورت میں پیش کیے ہیں۔اس کے دیباچہ میں اس نے تاریخ فلسفہ بیان کی ہے نیز یہ بھی کہا ہے کہ انسانی فکر کی منتہا خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور زندگی کی آخری منزل خدا تعالی سے اتحاد ہے۔اس ناول کا