مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 77
141 140 میں منصہ شہود پر آیا۔اس کتاب کو فرانسیسی عالم ڈی گوئے جے نے 1877ء میں مدون کر کے اس کا فرانسیسی ترجمہ جزوی طور پر شائع کیا۔ابو دلاف الینوعی ( مکه و بخارا ) سامانی حکمراں نصر ابن اسماعیل (942-913ء) کے دربار سے منسلک تھا۔وہ ہندوستان 942 ء میں تبت کے راستے سے آیا اور کشمیر، افغانستان اور سجستان کے راستے واپس گیا۔اس نے سفر کے حالات عجائب البلدان میں قلم بند کیے۔اس کا فرانسیسی میں ترجمہ جی فیرانڈ (G, Ferrand) نے 1913 ء میں شائع کیا۔ابوالحسن المسعودی (957ء قاہرہ) عالم اسلام کا سب سے بڑا جغرافیہ دال اور تاریخ داں تھا۔اس نے 30 جلدوں پر مشتمل انمول انسائیکلو پیڈیا مروج الذہب والمدائن الجواہر 1947ء میں قلم بند کیا۔اس کتاب میں جغرافیہ علم طبقات الارض اور طبیعی تاریخ کا نایاب ذخیرہ موجود ہے۔اس کتاب میں دنیا کی تاریخ میں پہلی بار تحریر میں پن چکی کا ذکر کیا گیا ہے جو بجستان کے مسلمانوں نے ایجاد کی تھی۔955ء میں ایک زلزلہ آیا، اس نے اس کے بیان کے ساتھ اس کی سائنسی وجوہات پیش کیں، پھر اس نے بحیرہ مردار ( Dead Sea) کے پانی کی صفات یعنی زمینی سائنس (Earth Sciences) پر اظہار خیال کیا۔المسعودی نے 915ء میں ایران کا سفر کیا۔وہاں سے وہ بغداد کے راستے ہندوستان پہنچا اور ملتان منصورہ اور دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔وہاں سے وہ کر مان گیا۔918ء میں پھر واپس ہندوستان آیا اور گجرات گیا جہاں اس وقت بندرگاہ والے شہر چمور میں دس ہزار عرب آباد تھے۔وہاں سے وہ دکن گیا۔وہاں سے سیلون، انڈو چائینا اور پھر چین۔مروج الذہاب میں اس نے یہودیوں، عیسائیوں ، ہندوستانیوں اور ایرانیوں کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے۔ہندوستان سے متعلق واقعات چوتھے باب میں ہیں جو عربی اور لاطینی میں گلڈے ماکسٹر (Gildemeister) نے بون (جرمنی) سے 1838 ء میں شائع کیے تھے۔سے قاہرہ واپس آنے پر اس نے دوسری کتاب مروج الزمان نکھی ، پھر اس کتاب کے ضمیمے کے طور پر اس نے کتاب الاوسط لکھی جس میں واقعات کو تاریخ وار لکھا گیا ہے۔وفات والے سال 957ء میں اس نے کتاب التنبیہ والاشراف لکھی جس میں گزشتہ کتابوں کا خلاصہ اور اغلاط کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کا ترجمہ ڈے گوئے جے نے کیا جو آٹھ جلدوں میں لیڈن سے 1894ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔وہ پہلا مسلمان عالم تھا جس نے اس کتاب میں نظریہ ارتقا پر اپنے خیالات قلم بند کرتے ہوئے جمادات سے نباتات، نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے انسان کے ارتقا کو عین ممکن سمجھا۔اس نے 34 کتابیں تالیف کیں مگر ظالم وقت کے ہاتھوں 30 آسودہ خاک ہوگئیں اور چار ہم تک پہنچی ہیں جن کا ذکراو پر کیا گیا ہے۔ابوریحان البیرونی (1050ء) بھی جامع النظر جغرافیہ داں تھا۔اس کی کتاب الہند، ہندوستان کے متعلق معلومات کا بے مثال خزینہ ہے۔اس کا ترجمہ لندن سے 1888ء میں شائع ہوا تھا۔اس نے حیران کن اکتشاف کیا کہ ہندوستان کسی زمانے میں سمندر تھا جو رفتہ رفتہ ندیوں کی لائی ہوئی سیلابی مٹی سے بھرتا رہا۔اس کتاب میں اس نے براعظم امریکہ کے موجود ہونے پر قیاس آرائی ان الفاظ میں کی تھی: "It is possible, even likely, that each pair of the quarters of the earth forms a coherent uninterrupted unity, the one as a continent, the other as an ocean۔" اس نے سندھ، پنجاب، بیاس، ستلج ، رادی، جہلم دریاؤں کے نام دیے۔اس نے ہندوستان کے مختلف شہروں کے طول بلد اور عرض بلد تیار کیے جیسے پشاور (33,44، سیالکوٹ 30,58 ، ملتان 29,40 - وہ زمین کے گول ہونے پر یقین رکھتا تھا، اس نے کہا کہ دن رات کے تغیر وتبدل میں نیز مشرق و مغرب میں وقت میں فرق زمین کے گول ہونے کی وجہ سے ہے۔وہ نظام شمسی پر یقین رکھتا تھا۔اس نے ارضیات کے علم کی بنیاد رکھی۔دنیا میں پہلی بار اس نے ثابت کیا کہ وہ قدرتی