مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 76
139 138 مسافروں کے لئے کھانے پینے اور سرایوں کی معلومات، ڈاک کی ترسیل کے لئے مراکز کا محل وقوع اور نشاہدہی ، بحری معلومات۔احمد السرحی (899ء ) نے المسالک و الم الجیسی اہم کتاب تصنیف کی نیز ایک اور کتاب رسالہ فی البحر والمياء والجبال بھی لکھی۔ابوالقاسم ابن خراد به (850ء) کی کتاب المسالک والمما لک عربی میں جغرافیہ کی سب سے پرانی کتاب ہے جس میں اسلامی دنیا میں تجارت کے راستے بیان کیے گئے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں چین، کوریا اور جاپان کے بھی جغرافیائی حالات دیے گئے ہیں۔ڈی گوئے جے نے اس کا فرانسیسی ترجمہ کیا جو لیڈن سے 1889ء میں شائع ہوا ہے۔نویں اور دسویں صدی میں عرب مسلمانوں نے بحر ہند کا علم سفر کے ذریعے حاصل کیا۔ایک مسلمان تاجر سلیمان 1861ء میں چین گیا اور وہاں کے حالات قلم بند کیے۔عربی میں چین پر یہ پہلی کتاب تھی۔اس نے لکھا کہ چین میں لوگ دستخط کرنے کے بجائے انگوٹھا لگاتے ہیں۔مشہور ریاضی داں ثابت ابن قرة نے بطلیموس کی کتاب ” جغرافیہ کا عربی میں ترجمہ کیا۔دسوس ) میں ابوزید بلخی، ابو اسحق ابراہیم الاستخری ، اور ابن حوقل نے اس عنوان پر کتابیں لکھیں۔الاستخری نے عرب، عراق اور خوزستان کا دورہ کیا۔اس کی کتاب المسالک والممالک Routes & Kingdo is) کا ترجمہ اطالوی اور جرمن زبانوں میں ہو چکا ہے۔ابوالقاسم بن علی ابن حوقل ، عراق کا باشندہ تھا اس نے چھتیں سال تک 973-947ء عراق، ایران ، وسط ایشیا، اسپین ، شمالی افریقہ، مصر اور سسلی کے سفر کیے۔اس کی تصنیف منیف کتاب صورۃ الارض 988ء میں لکھی گئی تھی۔یہ کتاب سب سے اہم ماخذ ہے۔جے اینچ کر یمرز (J۔H۔Kramers) نے 1938ء میں عربی متن کی تدوین اور ترجمے کے فرائض انجام دئے ، ای۔جے برل لیڈن (E۔J۔Brill Leiden) نے اسے شائع کیا۔اس کا فرانسیسی ترجمہ جی وائٹ (G۔Wiet) نے 1964ء میں شائع کیا تھا۔[39] ابن سرافیون (900ء) نے جغرافیہ پر ایک کتاب لکھی جس میں سمندروں، جھیلوں، جزیروں، پہاڑوں اور دریاؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا مثلاً اس نے دریائے دجلہ، عرفات اور نیل کی جو تفصیلات دیں وہ قیمتی معلومات ہیں۔بغداد کی تمام نہروں کا بھی اس نے ذکر کیا۔اس کا مخطوطہ برٹش میوزیم لندن میں موجود ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے Baghdad during the Abbasid Caliphate by G۔L۔Strange, Oxford ) 1900 )۔ابو علی ابن رسطہ (903ء اصفہان) نے العلق النفیسہ لکھی جس میں بہت سے ممالک کے حالات دیے گئے تھے۔اس کا ترجمہ ڈی۔گوئے ہے (De Goeje) نے لیڈن (ہالینڈ) سے 1892ء میں شائع کیا۔کچھ حصوں کا ترجمہ روسی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ابوزید بلخی (934ء) مشہور ریاضی داں اور جغرافیہ داں تھا اس کی کتاب صور الا قالیم میں کثیر تعداد میں نقشے دیے گئے تھے۔حسن ہمدانی 951-893 یمن کا معروف ماہر جغرافیہ داں تھا۔اس کی کتاب ” صفات جزيرة العرب میں پھلوں ، سبزیوں، قیمتی پتھروں اور دھاتوں پر مفید معلومات پیش کی گئی ہیں۔علم فلکیات میں اس نے سرائر الحکمۃ فی علوم النجوم لکھی۔علم طب میں اس کی کتاب القومی گم شدہ ہے۔اس کی دیگر کتا بیں الحرث والنخلہ ( زراعت پر ) ، الابل (اونٹ پر ) کتاب الجواہر (سونے چاندی پر ) ہے۔آخری کتاب کا ترجمہ جرمن زبان میں ہو چکا ہے۔دسویں صدی میں ہی احمد ابن فضلان نامی جغرافیہ داں اور سیاح کو خلیفہ المقتدر نے 921ء میں بلغاریہ کے بادشاہ کے دربار میں بھیجا۔اس نے روس کے دور دراز علاقوں (Volga & Caspian) تک سفر کیا۔اس کتاب کا جرمن ترجمہ سینٹ پیٹرز برگ (St۔Petersburg) سے 1823ء میں شائع ہوا۔ابو عبد اللہ محمد بن احمد المقدسی (1000-947 ء بیت المقدس کا رہنے والا ) ابن حوقل کا ہم عصر تھا۔فلسطین کے اس باشندے نے اپنا طویل سفر یروشلم سے شروع کیا اور اسلامی ممالک کی بیس سال تک سیاحت کی۔جس کا نتیجہ احسن التقاسیم المعرفة الا قالیم (Knowldege of theClimes) پانچ سال کی محنت کے بعد 990ء میں کتاب کی صورت