مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 74
135 الجاحظ "ALJAKIZ" 134 DATAR POSTAGI حکومت قطر کے ذریعے جاری کردہ جاحظ کا ڈاک ٹکٹ ترجمہ بک آف اینیملس (Book of Animals) کے نام سے ایل۔کوف (L, Kopf) نے کیا ہے۔اس نے نظریہ ارتقا (Theory of Evolution) پیش کیا اور بتایا کہ زندگی جمادات سے نباتات، نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے انسانوں میں ارتقا پذیر ہوتی ہے۔مندرجہ ذیل حوالہ اس کی علمیت کا ثبوت ہے: "He inaugurated the genre of 'essay' taking psychological analysis and critical synthesis to great heights"[38] ابو بکر ابن وحشیہ بہت بڑا زراعت داں تھا۔کا شتکاری، کیمیا اور طلسمات پر اس کی تصنیفات کی تعداد تین سو کے قریب تھی۔اس نے 904ء میں ضخیم کتاب الفلاحة النبطية عربی میں لکھی تھی۔کتاب میں اس نے پیڑ پودوں کی اصلاح اور ان کو لاحق ہونے والی بیماریوں کے علاج لکھے تھے۔تیسرے باب میں اس نے کنواں کھود نے کی ترکیب بتائی۔اس نے مختلف انواع واقسام کے نباتات، ان کو لگانے ، دیکھ بھال کرنے ، کھاد ڈالنے اور سیراب کرنے پر سیر حاصل معلومات مہیا کیں۔عریب ابن صاعد نے زراعت کے موضوع پر کتاب اقوات الصنعہ ( Book of لکھی ہے۔(Calendar ابن العوام اندلسی علوم زراعت اور نباتات کا عالم تھا۔فن زراعت پر اس کی بے مثال تصنيف الفلاحہ ہے۔اس کا مخطوطہ اسکور یال (اسپین) لائبریری میں موجود ہے۔اس کا اسپینی ترجمہ دو جلدوں میں 1802ء میں شائع ہوا۔1878ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن اشبیلیہ سے شائع ہوا۔کتاب میں اس نے مختلف پودوں کے اگانے کاشت کاری کے جانوروں، زمین کی اقسام، زمین کی خصوصیات اس کو سونگھ کر ، چھوکر ، چکھ کر اور دیکھ کر معلوم کرنے پر لکھا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ سورج اور ہوا دونوں زمین کی اصلاح میں اثر کرتے ہیں۔اس کا ایک نظریہ جدید نظریات کے مطابق ہے کہ زمین کے نیچے کی مٹی میں نمو پذیری نہیں ہوتی ہے، ایسی مٹی میں پودے اچھے نہیں ہوتے ہیں۔اس نے کھاد کی قسمیں، بنانے کے طریقے نیز پودوں اور پھلوں کو لاحق ہونے والے امراض سے چھٹکارے کے طریقے بتلائے۔گیارہویں صدی میں اندلس میں زراعت ( فلاحہ ) کے ماہرین طلیطلہ اور اشبیلیہ کے شاہی نباتاتی باغ ( Royal Botanical Garden) میں ریسرچ اور تجربات کیا کرتے تھے۔شمالی اٹلی کے شہروں میں اسی طرز کے نباتاتی باغ سولہویں صدی میں بننا شروع ہوئے تھے۔ابن مسکویہ پہلا شخص تھا جس نے زندگی کے ارتقا کا نظریہ پیش کیا۔اس نے یہ بات بھی کہی کہ نباتات میں زندگی ہے، پودوں میں نزاور مادہ ہوتے ہیں جیسے کھجور مشہور تاریخ داں المسعودی نے بھی نظریہ ارتقا پیش کیا تھا۔ایک اور ماہر حیوانیات محمد ابن الدمیری (1405-1301ء، قاہرہ) نے حیات الحیوان لکھی جس کا مخطوطہ امریکہ کی نیشنل لائیبر بری آف میڈیسن ( میری لینڈ ) میں موجود ہے۔غیاث الدین اصفہانی (1474ء) نے دانش نامہ جہاں جیسا نادر انسائیکلو پیڈیا لکھا جس میں علم معدنیات (منرالوجی) علم موسمیات (میٹر یولوجی)، علم نباتات (باٹنی) اور