مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 71 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 71

129 128 میٹالرجی (metallurgy) سے واقف تھا۔اس نے لوہے کو زنگ سے بچانے کا طریقہ نکالا۔(13) دھاتوں کے بارے میں بتایا کہ سب دھاتیں گندھک اور پارے سے بنتی ہیں۔دھات کا کشتہ بنانے پر اس کا وزن قدرے بڑھ جاتا ہے۔(14) اس نے موم جامہ بنایا تا کہ اشیا کو رطوبت سے خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔(15) اس نے گریس (grease) بنانے کا فارمولا قواریر ( phials)، با رانی ) Jars ) تنور ( (oven) عطون ( Potter's kils) نسب (pestle) ، کره (round mould) ، راوک (filter) ، سله (basket)، قندیل (candle) قفس (cage) ، خیش (filter linen)۔۔الکحل کا موجد بھی رازی ہے۔اس نے الکحل کے علاوہ سلفیورک ایسڈ (روح الذج) ایجاد کیا (16) اس نے بہت ساری عملی کیمیائی ترکیبیں (practical chemical process ) ایجاد کیا۔ہائیڈ روسلفیورک ایسڈ (روح اصلح ) بنانے کی ترکیب بھی تجویز کی سرجری کے لیے اس دریافت کیں۔اس طرح اس نے اطلاقی سائنس کی بنیاد رکھی۔(17) سونے کو پگھلانے کے لئے اس نے ایکوا ریجیا ( aqua regia ) دریافت کیا۔(18) زریں حروف میں کتابت کا طریقہ بھی اسی نے شروع کیا۔ابو بکر محمد بن زکریا رازی قرون وسطی کا سب سے بڑا کیمیا داں تھا۔رازی کی کیمیا میں عدیم المثال کتاب سر الاسرار ہے جس کا لاطینی ترجمہ لیبر سیکٹر میٹورم با کارس ( Liber Secretorum Bubacaris) کے عنوان کے تحت کیا گیا اس کتاب میں اس نے distillation, calcination & crystallisation جیسے دقیق موضوعات پر مبسوط بحث کی ہے۔اس نے ستائیس آلات کا بھی ذکر کیا ہے جو اس نے اپنی تجربہ گاہ میں استعمال کیسے تھے جیسے کھرل (mortar)، نسب (pestels)، چمٹا ( tongs)، مقطی (shears)، بیکر ( beakers)، آلۂ کشید (alembics) وغیرہ۔تجربہ گاہ میں اس نے جن کیمیائی آلات کا ہونا ضروری قرار دیا ان کی تفصیل سر الاسرار میں یوں دی گئی ہے : [35] (1) ایسے آلات جو پگھلانے اور عمل حرارت کے لئے ہوں۔منفاخ (bellows)، مغرافہ (ladel)، بوطقا (crucible)، چمٹا (tongs ) مقطی (shears) مکسر (hammer)، مباکہ (iron mould)۔(2) کیمیائی اشیا کو پروسیس کرنے کے لئے آلات ( یعنی تدبیر )۔انبیق (retort)، عثال (audel) ، عقده (beakers) ، کیزان ( glass cups) ، کنانی ( bottles/flasks)، نے ایک کارآمد نشتر ( seton) بنایا۔اس نے دواؤں کے صحیح وزن کے لیے میزان طبعی (hydrostatic balance) ایجاد کیا جس میں چھوٹی چھوٹی اشیا کا صحیح وزن کیا جا سکتا ہے۔یہ تر از وسائنس لیب میں استعمال ہوتا ہے۔اس نے مادے پر غور کر کے جمادات، نباتات اور حیوانات کے لحاظ سے اس کی تقسیم کی۔جاندار اشیا کو نامیاتی (organic) اور غیر نامیاتی (inorganic) میں تقسیم کیا اور ان کی درجہ بندی کی۔اس نے زیتون کے تیل سے گلیسرین تیار کی۔اس نے کہا کہ تمام اشیا خلیوں سے بنتی ہیں جن کا مدار کیمیائی رد عمل پر ہوتا ہے۔وہ پہلا کیمیا داں تھا جس نے بیان کیا کہ سلفر (sulphur ) ، سالٹ (salt) اور مرکزی (mercury) کے تین خواص ہر قسم کی اشیا میں پائے جاتے ہیں ( بحوالہ سرالاسرار )۔یہی دریافت یورپ میں پاراسیلیس (Paracelus) نے صدیوں بعد کی تھی۔[36] مادے کے بارے میں رازی کا نظریہ (theory of matter) درج ذیل تھا: "Bodies are composed of indivisible elements and of empty space between them۔These (atoms) were eternal and possessed a certain size۔" اجسام چھوٹے چھوٹے عناصر سے بنے ہوتے ہیں جن کے درمیان میں جگہ ہوتی ہے۔یہ ایٹم غیر فانی ہوتے ہیں اور ان کا سائز یقینی ہوتا ہے۔اس نے درج ذیل کیمیائی عمل کو بیان کیا: