مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 58 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 58

103 102 8 فلکیاتی جدول ( زیج) زیج کے معنی قالین میں جھول یا خم کے ہیں مگر تکنیکی معنی فلکیاتی جدول کے ہیں۔اس کے کئی فوائد تھے : زیج کے ذریعے کروں کی پوزیشن ( آسمان پر فلکی اجسام کا محل وقوع)، چاند کی منازل، سورج گرہن، چاند گرہن ، موسموں کے اوقات، طول بلد، عرض بلد ، طلوع آفتاب، غروب آفتاب کے اوقات ، سیاروں کے روزانہ اور ماہانہ محل وقوع اور اسلامی مہینوں کے آغاز اور تہواروں کے لیے نئے چاند کے نکلنے کی تاریخ معلوم کی جاتی تھی۔زیج گویا علم ہیت کی ہینڈ بک ہوتی تھی۔سال کی مدت 365 دن، پانچ گھنٹے ،48 منٹ اور 24 سیکنڈ بیان کی ہے۔وہ پہلا سائنس داں تھا جس نے اپنی سائنسی تحقیق میں ٹریگا نومیٹری کی اصطلاحیں جیسے سائن (sine)، کو سائن (cosine) ٹینجیٹ (tangent) اور کو ٹیننٹ (cotangent) استعمال کیں۔اس کے علاوہ اس نے اپنی ریسرچ میں جیومیٹری کے بجائے ٹریگا نومیٹری کو استعمال کیا۔کو پر نیکس ، ٹائیکو برا ہے، کیپلر نے اس کی زیج الصابعی سے بے حد استفادہ کیا تھا۔عباس ابن فرناس (متوفی 887ء) خلیفہ عبد الرحمن الثانی کے دربار میں شاعر اور نجم تھا۔اس نے کئی نئی ایجادات کیں۔وہ بغداد سے ستاروں کی مشہور زیج اپنے سفر سندھ کے دوران ساتھ لایا جس کے بعد اسپین میں بیت کے علم کو فروغ حاصل ہوا۔تاریخ میں آیا ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قرطبہ کے ایک پہاڑ سے ہوا میں اڑنے کی کوشش کی جس کے لیے اس نے پروں کا خاص لباس بنا یا تھا۔وہ کچھ دور تک ہوا میں اڑ کر گیا۔اس نے اندلس میں مشرقی موسیقی کو بھی متعارف کرایا نیز اپنے گھر میں آلات رصد تعمیر کیے گھڑیال اور پلینی ٹیریم (Planetarium) بنایا۔عبد الرحمن الصوفی (986-903ء، رے، ایران ) پہلا عالمی بیت داں تھا جس نے قرون وسطی میں علم ہیئت کے تمام آلات اور جدول (astronomical tables ) 964ء میں اینڈرومیڈا کیلکسی (Andromeda galaxy M31) کو دریافت کیا۔ہمارے اسلامی ممالک سے یورپ پہنچے تھے۔پھر بعیت کی تمام اصطلاحات عربی سے ماخوذ تھیں۔بڑے بڑے مسلمان ہئیت دانوں جیسے الصوفی ، الفرغانی، البیرونی، ابن سینا، الزرقلی ، الطوسی، الغ بیگ کی معتبر کتابوں کے تراجم لاطینی اور عبرانی میں کیے گئے۔محمد بن جابر البتانی کی ستاروں کی زیج آخری بار روم سے 1899ء میں شائع ہوئی تھی۔البتانی نے بطلیموس کے نظریے کے برعکس کہا کہ سورج کو گرہن ہر سال لگتا ہے۔1749ء میں یورپ کے بہیت داں ڈن تھارن نے البتانی کے نظریات کی مدد سے چاند سے متعلق نظریہ پیش کیا جس کا نام سیکیولر ایکسیلیریشن آف دی موومینٹ آف دی مون secular acceleration of the movement of the moon) ہے۔البتانی نے نئے چاند کے دیکھنے کی پیشگی تاریخ معلوم کرنے کا طریقہ بھی بتایا۔اس نے ایک نظام شمسی سے باہر کسی اور اسٹار سسٹم کے ہونے کا یہ پہلا تحریری ثبوت تھا جس کا ذکر اس نے اپنی تصنیف کتاب الكواكب الثابت المصور ( Book of Fixed Stars ) میں کیا۔یہی کہکشاں سات سو سال بعد جرمن بیت داں سائمن ماریس (Simon Marius متوفی 1624ء) نے دسمبر 1612ء میں دور بین کی مدد سے دریافت کی تھی۔الصوفی کی کتاب کے تراجم یورپ کی کئی زبانوں میں کیے گئے جس سے اس کتاب کا اثر یورپ کی ایسٹرونومی پر دیر پا اور گہرا تھا۔یہ کتاب دائرۃ المعارف عثمانیہ نے 1953ء میں شائع کی تھی۔کتاب مذکور کو آبزرویشنل ایسٹرونومی کا شاہکار کہا جاتا ہے۔اس کی دوسری تصنیف کتاب العمل بالاصطرلاب 1962ء میں ء میں شائع کی گئی تھی۔اس عظیم ہئیت داں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چاند کے ایک 47 کیلو میٹر لمبے