مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 28
43 ابن ابی اصیبعہ قاہرہ کا ذی علم اور وسیع المعلومات طبیب تھا۔اس نے اطبا کی سوانح عمریوں پر ایک شاندار کتاب عیون الانباء فی طبقات الاطباء ترتیب دی جو قاہرہ سے دوسری مرتبہ 1948ء میں شائع ہوئی تھی۔جرمنی کے مستشرق وسٹن فلڈ (99-1808-Wustenfeld) نے اپنی کتاب میں تین سو مسلمان طبیبوں اور ادیبوں کے نام گنوائے ہیں۔اڈولف فونان (1910-Adolf Fontan) نے اپنی کتاب Zur Quellen Kunde der Persische میں لکھا ہے کہ صرف ایران میں طب کے موضوع پر چارسو کتا ہیں لکھی گئی تھیں۔مسلمان اطبا نے جس نوعیت کی سرجری (Surgery) کی ، ایک مغربی مصنف نے اس کی اجمالی تفصیل ان الفاظ میں پیش کی ہے: Right lung 42 Bronchus Left lung Asteria venosus Left auricle Vencus arteriosus aht article "Aorta, blood vital spirt Left ventric ventricle Vena cava ابن النفیس کی تھیوری آف پلمونری سرکولیشن کی وضاحت ابن النفیس نے القانون کی پانچوں جلدوں کی تلخیص لکھی جس کا نام کتاب الموجز ہے۔یہ اس قدر مشہور ہوئی کہ اس پر حل موجز کے نام سے اس کی بہت سی شرحیں اور حواشی لکھے گئے۔غذا کا اثر انسان کی صحت پر کیا پڑتا ہے، اس موضوع پر اس نے مشاہدے اور تحقیق سے كتاب المختار في الاغذیہ لکھی۔بغيات الطالبین و حجتہ المتطبین (جو طبیبوں کے لئے حوالہ جاتی کتاب ہے) کی تصنیف کی۔ابن نفیس کی دو اور شرعیں مشہور ہیں یعنی شرح طبیعات الانسان لبقراط، اور شرح مسائل حنین۔اس نے آنکھوں کی بیماریوں پر بھی قیمتی معلومات والی کتاب مہذب فی الکحل لکھی۔اس کا ایک اور طبعی کا رنامہ درج ذیل ہے: "He was the first to write on a capillary network joining arteries and veins, and the effect of lung movement in delaying the healing of tuberculosis۔" "Vessical probes, incision of abcesses, functions of ascitis and hydrocelitis, tumour were treated, arrow heads were removed, wounds sutured, tonsils removed, apmutations, close hernias, vericose veins, intestinal sutures with thread۔(Dentistry) extract diseased teeth, make artificial teeth from bone and attach them to healthy by steel wire۔"[10] عزالدین سویدی (1292ء) طبیب اور فلسفی ، ابن بیطار کا شاگرد اور ابن ابی اصیحہ کا دوست تھا۔اس کی کتاب تذکرہ میں امراض کے اسلامی اور یونانی نسخے دیے گئے ہیں۔تمام نسخے سر سے پاؤں تک بلحاظ امراض مرتب ہیں۔شاہرانی نے اس کی تلخیص لکھی تھی۔ابو البرکات بغدادی نامور طبیب اور مشہور فلسفی تھا۔سلاطین سلجوقیہ کے دربار میں اس کو قدر و منزلت حاصل تھی۔اس نے متعدد کتابیں قلم بند کیں۔ان میں سب سے مشہور کتاب المعتمر “ ہے ، جسے دائرة المعارف حیدر آباد نے شائع کیا تھا۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ فلسفہ و حکمت کے مسائل پر نقد و بحث کی گئی ہے اور تمام مسائل واضح اور شستہ عبارت میں لکھے گئے ہیں۔