مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 22
31 30 حبيش ابن الاعصم ( حسین ابن الحق کا بھانجا ) نویں صدی میں بغداد کا طبیب تھا جس نے جالینوس کی تین کتابوں کے تراجم سریانی میں اور 35 کتابوں کے ترجمے عربی میں کیے۔وہ اپنے ماموں حسنین کا شاگرد ہونے کے ساتھ ترجمے کے کام میں اس کا دست راست بھی تھا۔موسیٰ ابن خالد بھی حنین کے دارالترجمہ سے منسلک تھا جس نے جالینوس کی سولہ کتابوں کے حسنین کے سریانی میں کیے ہوئے تراجم سے عربی میں ترجمہ کیے۔علی ابن ربن الطبر می (861) محمد بن زکریا رازی کا استاد تھا جس نے کتاب فردوس الحكمة 850ء میں لکھی۔اس کتاب میں فلسفہ، حیوانیات، نفسیات، ہئیت ،حمل اور جنین پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے دین و دانش اور حفظ صحت بھی لکھیں۔مؤخر الذکر کتاب کا مسودہ بولین لائبریری میں موجود ہے۔حسین ابن اطلق (877ء) کی کتاب تاریخ الاطبا بہت مستند کتاب تھی اس کے علاوہ حسین نے کتاب علل العین ، کتاب القرح، کتاب كناش الخفف ، کتاب الاسنان، کتاب الاغذیہ سپر قلم کیں۔اس نے جالینوس کی 130 کتب کا یونانی اور لاطینی سے عربی میں ترجمہ کیا۔نیز اس کے قابل فرزند اسحق ابن حسنین نے نوے کتب کے تراجم کیے۔الكندي (866-801ء) کو طب سے بڑا شغف تھا۔اس نے بقراط کی طبی معلومات پر ایک کتاب تحریر کی تھی۔طب کے موضوع پر اس نے بیس سے زیادہ کتابیں لکھی تھیں۔ان کتابوں میں اس نے زیادہ تر معدے کی تکالیف ، نقرس ( گٹھیا کی ایک قسم)، بخار کی اقسام، زہر کی سرایت کے اسباب ہلغم سے پیدا ہونے والے امراض اور اچانک موت کی وجہ پر اظہار خیال کیا۔اس نے جذام پر بھی بحث کی اور دماغ کے خلیوں کی ساخت اور اس کے ہر حصے کے مخصوص افعال کا بھی تذکرہ کیا۔واضح رہے کہ آٹھویں صدی سے بارہویں صدی تک ستر سے زیادہ طبیبوں نے سائنس کی اس اہم شاخ طب میں بہت معرکۃ الآرا کتابیں اور رسالے تصنیف کیے۔یہ محض شاخسانہ نہیں بلکہ یہ نادر کتب یورپ کی مختلف مشہور لائبریریوں جیسے بوڈلین لائبریری، آکسفورڈ (Bodlein University, Oxford)، برٹش لائبریری، لندن ( British Library London) میں آج تک محفوظ ہیں۔رازی کی پچاس کے قریب کتب یورپ کی علمی درسگاہوں میں محفوظ ہیں۔اس کی شاہکار کتاب الحاوی (۲۵ جلدیں) کالاطینی ترجمہ کانٹی نینز (Continens) کے عنوان سے کیا گیا۔( راقم السطور نے 1999ء میں آکسفورڈ کی بوڈلین لائبریری میں اس کا سرسری مطالعہ کیا تھا)۔چودہویں صدی میں پیرس کی فیکلٹی آف میڈیسن کا مکمل نصاب تین کتابوں کتاب الحاوی ، کتاب المنصوری ( Liber Almansoris) اور القانون فی الطب پر مشتمل تھا۔یو نیورسٹی آف پیرس (University of Paris) کے اسکول آف میڈیسن کے وسیع و عریض ہال میں رازی اور ابن سینا کی تصاویر (paintings) طب میں ان کے لا زوال کاموں کے باعث آویزاں ہیں۔ثابت ابن قرة (901-836ء) کی چیدہ چیدہ طبی تصانیف یہ ہیں: کتاب فی النبض، کتاب فی اوجاع الكلى والمثانه، الذخيره في علم الطب الروضه في الطب الكناش ، كتاب في علم العين ، كتاب في الجدرى والحصبه ، كتاب البطر و ( جانوروں کے علاج پر کتاب)۔علی ابن العباس اہوازی (994-Haly Abbas) جو سلطان عضد الدولہ کا شاہی طبیب تھا، اس نے طب میں کتاب الملکی یعنی کتاب الکامل الصناعة في الطب تحریر کی۔یہ عربی میں طب کی پہلی کتاب تھی جس کا لاطینی ترجمہ 1127ء میں لائبریجیکس (Liber Regius) کے عنوان سے ہوا۔قسطنطین افریقی کا کیا ہوا ترجمہ پین تجنی (Pantegni ) کے عنوان سے 1539ء میں طبع ہوا۔عربی زبان میں یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے جو 1294ء میں قاہرہ سے منظر عام پر آئی تھی۔طب میں اس کی دو دریافتیں قابل ذکر ہیں: روڈ یمینٹری کنسپشن آف کیپیلری سسٹم ( rudimentary conception of capillary system) اور پروف آف دی موشنس آف دی ومب۔۔۔۔۔چائلڈ ڈز ناٹ کم آؤٹ۔۔۔اٹ از پشڈ آؤٹ proof of the motions of the womb, child)