مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 21 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 21

29 28 سے ہسپتالوں کا آغاز کیا تھا اس قسم کے ہسپتال یورپ کے اسٹراس بورگ (Strasbourg) (Montpellier) میں تھا۔اس شہر میں عربوں اور یہودیوں کی ایک کثیر تعداد آباد تھی بلکہ بعض مقامی باشندے ایسے بھی تھے جو عربی بڑی روانی سے بولتے تھے۔اس علمی ماحول میں یورپ کی میں 1500 ء میں قائم ہوئے۔واضح رہے کہ اسلامی ہسپتالوں میں طب کے طلبہ کو عملی تعلیم میڈیکل تعلیم اور تربیت پر عربی طب کا بہت نمایاں اثر نظر آتا ہے ( جیسے ہسپتالوں کی تعمیر اور (clinical instruction ) بھی دی جاتی تھی۔ایسی تعلیم کا رواج یورپ میں 1550ء کے بعد نظم و ضبط) یہودی مترجمین اور مولفین نے طلیطلہ، اشبیلیہ اور قرطبہ میں تربیت حاصل کی تھی۔شروع ہوا۔ابتدا میں ان میڈیکل کالجوں میں سرجری کو عیب سمجھا جاتا تھا بلکہ 1183ء میں چرچ ایک یوروپین عالم میرون (Meron) نے کھلے بندوں اعتراف کیا ہے کہ یورپ کے ہسپتالوں کے ایک فرمان کے مطابق سرجری کو طبی نصاب میں شامل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔لیکن میں نورالدین سلجوقی کے شفا خانہ (دمشق) اور سلطان منصور قلادن کے ہسپتالوں ( قاہرہ) کی سرجری کے موضوع پر عربی کتب کے تراجم جب دستیاب ہونا شروع ہو گئے تو اس کو تعلیمی نصاب مماثلت اور مشابہت کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔اسلامی ممالک میں ہسپتال دس قسم کے ہوتے تھے۔جذامیوں کے لیے شفا خانے، میں شامل کر دیا گیا۔یورپ میں طب کی تعلیم کے لیے تمام نصابی کتب مسلم محققین ، اطبا اور معتبر مصنفین کی کتابوں کا ترجمہ تھیں۔مزید برآں یورپ میں یو نیورسٹیاں ( اٹلی اور اسپین میں ) "The system of universities and colleges that began to develop in 12th century Europe was parallel in many ways to the Madrasa system of the medieval Islamic lands۔As the European system developed roughly 100 years after that in the Muslim world, it is highly probable that the Western universities were modeled on Muslim institutions of learning۔"[8] پاگل خانے ، نابینا گھر اور یتیم خانے۔قیدیوں کے لئے شفا خانے طبی مراکز ، عام شفا خانے اسلامی طرز کے مدرسوں پر شروع ہوئی تھیں : (جنرل ہاسپٹل ) ، گشتی شفا خانے (mobile dispensaries ) ، فوجی ہسپتال اور ہسپتالوں سے ملحق طبی اسکول۔بغداد کے ہسپتالوں کے تذکرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے اعلیٰ انتظام وانصرام کے تھے مثلاً عبودی ہسپتال، الرشید شفاخانہ ( ہارون رشید نے تعمیر کرایا) ، المقتدر شفاخانہ، ابن فرات شفاخانہ بدر غلمان شفاخانہ (ثابت بن قرة نے تعمیر کرایا ) ، السعیدہ شفاخانہ (سنان بن ثابت نے تعمیر کرایا)۔ہر ہسپتال کے ساتھ طبی اسکول ، کتب خانہ، دوا خانہ (Pharmacy)، مسجد عوامی حمام ہوتے تھے۔قاہرہ کے طولون ہسپتال سے منسلک کتب خانے میں ایک لاکھ کتا ہیں جمع تھیں جبکہ مستنصر یہ مدرسہ میں اتنی ہزار کتابیں تھیں۔مریضوں کے نام رجسٹر (log book) میں لکھے جاتے تھے۔ان کے مرض کی شناخت، علاج اور کھانے کا بھی ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔تمام علاج مفت ہوتا تھا۔فارمیسی میں تمام ادویات تیار کی جاتی تھیں۔عورتوں اور مردوں کے لئے الگ وارڈ ہوتے تھے۔یہ بات قابل غور ہے کہ سیلر نو اور مانٹ پیلیئر شہروں کے میڈیکل کالج اور ہسپتال اسلامی اسپین اور مصر کے ہسپتالوں کے نمونے پر بنائے گئے تھے۔مسلمانوں نے جس منظم طریقے کتاب الفهرست ابن ندیم میں 29 مسلمان اطبا کے حالات اور کارناموں کی تفصیل مختصراً دی گئی ہے۔ان میں سے چند کا ذکر اگلے صفحات میں کیا جائے گا۔اس میں ان ہندوستانی کتابوں کی فہرست بھی دی گئی ہے جو طب پر تھیں اور جن کا عربی میں ترجمہ کیا گیا تھا۔جیسے بیچی ابن خالد بر مکی نے کنکا سے کتاب سوس روتا کا ترجمہ کرنے کی فرمائش کی۔کرا کا کتاب کا ترجمہ عبد اللہ ابن علی نے کیا۔نفشال کا ترجمہ بھی کیا گیا جس میں ایک سو بیماریوں کا ذکر اور ان کا علاج بیان کیا گیا تھا۔رائے پالی نے ہندوستانی سانپوں پر کتاب کا ترجمہ کیا۔