مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 62
111 110 تین سوفٹ اونچا ہے۔ایک زمانے میں موزن گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی بالائی منزل پر جا کر اذان دیا کرتا تھا۔اسی لیے اس میں سیڑھیوں کی جگہ ریمپ (camp) بنایا گیا ہے۔یہاں مشہور بلیت داں جابر ابن اللح نے اپنی تصنیف اصلاح الجمسطی کے لیے 1240ء میں ستاروں کے مشاہدات کیے تھے۔یہ کتاب یورپ میں مقبول عام تھی۔فی الحقیقت ہیرالڈا یورپ کی سب سے پہلی رصد گاہ تھی۔راقم الحروف نے اس مینار کو 1999ء میں اسپین کی سیاحت کے دوران دیکھا تھا۔اینٹوں سے بنی مینار کی عمارت میں داخل ہوتے ہی عربی زبان میں اس کی تعمیر کی مختصر تاریخ سنگ مرمر کی تختی پر دیوار میں نصب ہے۔اس کے مطابق یہ خلیفہ ابو یعقوب یوسف کے دور میں 1185ء میں مکمل ہوا تھا۔مینار کے اوپر کی منزل پر چار جانب کشادہ کھڑکیاں ہیں جہاں سے رات کے وقت ہر سمت سے اجرام فلکی کا مشاہدہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔دن کے وقت یہاں سیاحوں کا جم غفیر ہوتا ہے جن کے کیمرے بے دریغ تصاویر لیتے ہیں۔انٹرنیٹ پر ٹائیکو برا ہے ( 1801-1546ء) کے نام پر معلومات کرنے سے میں یہ دعوئی پڑھ کر حیران رہ گیا کہ اس نے دنیا کی سب سے پہلی رصد گاہ تعمیر کی تھی جبکہ اسلامی ممالک میں رصد گا ہیں خلیفہ المامون کے دور میں ہی تعمیر ہونا شروع ہوگئی تھیں۔چنانچہ اگلے سات سو سال میں جو رصد گا ہیں مختلف اسلامی ممالک میں تعمیر ہوئیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے: شمار رصد گاہ کا نام مقام ڈائریکٹر 1 شماسیه رصد گاہ 829 بغداد سند بن علی، عباس سعید جو ہری موسی برادران 2 باب الطاق رصدگاہ بغداد 3 قاسیون کے پہاڑ پر رصد گاہ 830ء دمشق یحیی ابن منصور 4 رقہ (شام) کی رصد گاہ رقہ الجانى 5 شرف الدولہ کی رصد گاہ 984ء بغداد رستم الکوہی ، ابوالوفا بوز جانی (محل کے اندر) 6 المقتم پہاڑ پر قاہرہ کی رصد گاہ قاہرہ ابن یونس +996 ہمدان کی رصد گاہ 1023 ء ہمدان ملک شاہ کی رصد گاہ 1092ء اصفہان الدینوری قاہرہ و الافضل رصد گاہ 1101 ء 10 ہیرالڈا ٹاور کی رصد گا 0 1172ء اشبیلہ جابر ابن اسح افلح 11 فیض، مراکش کی رصد گاہ1204 ء فیض 12 مراغہ کی رصدگاہ 1259 ء مراغہ نصیر الدین القوسی ، صدرالدین شجاع 13 تبریز کی رصد گاہ 1295ء تبریز 14 سمرقند کی رصد گاہ (الغ بیک) سمرقند جمشید الکاشی (مغل بادشاہ بابر نے اپنی +1402 15 استنبول کی رصد گاہ 1577 ء استنبول سوانح میں کہا ہے کہ اس کے آثار قدیمہ اس نے دیکھے تھے۔اس تین منزلہ رصد گاہ کو روسی ماہرین آثار قدیمہ نے 1908ء میں تلاش کیا تھا اس کی خوبصورت تصویر اس کتاب میں موجود ہے۔[31] مذکورہ بالا رصد گاہوں کے ماڈل کو سامنے رکھ کر یورپ میں رصد گاہیں بننا شروع ہوئیں۔پیرس 1666ء، گرین وچ 1675 ء ، لیڈن 1632ء، کوپن ہیگن 1637 ء۔جرمنی کے i