مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 54 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 54

95 94 قاہرہ کی سائنس اکیڈمی کے عالی دماغ رکن عبد الرحمن ابن یونس (1009ء) نے وقت کی پیمائش کے لیے پینڈولم (pendulum) ایجاد کیا۔علیم ہئیت میں اس کی حیرت انگیز دریافت انحراف دائرة البروج (inclination of the ecliptic) ہے جس کی قیمت اس نے 23 ڈگری، 35 منٹ نکالی تھی۔اس کی دوسری اہم دریافت اوج شمس (Sun's apogee) کا طول فلکی (longitude) ہے جو اس نے 86 ڈگری اور 10 منٹ قرار دیا تھا۔اس کی تیسری اہم دریافت استقبال اعتدالین (precession of equinoxes) کی صحیح قیمت معلوم کرنا ہے۔اس دریافت سے زمین کے محور کی حرکت کا پتہ چلتا ہے۔اس نے بتایا کہ زمین کا محور (axis) ساکن نہیں بلکہ مدھم رفتار سے اپنی جگہ سے گولائی میں گردش کرتا ہے۔یہ حرکت ہمیں محسوس نہیں ہوتی ہے۔یہ پیمائش اتنی چھوٹی ہے کہ اسے معلوم کر لینا ابن یونس کے مشاہدے تحقیقی مطالعے اور ہئیت دانی کا کمال تھا۔اس کی مشہور زمانہ زریج کا نام زیج الحاکمی الکبیر ہے جس میں اس نے تیس کے قریب چاند گرہن بیان کیے ہیں۔اس سائنسی ڈاٹا (scientific data) کا استعمال امریکی بنیت واں سائمن نیو کومب (Simon Newcomb) نے کیا تھا۔اس کی دوسری اہم تصانیف درج ذیل ہیں : کتاب غایة الانتفاع، کتاب السمت ، کتاب الجيب (sine tables)، کتاب الظل (cotangent tables)، کتاب التعديل الحکم اور نماز کے اوقات پر نظم۔ابو الوفا (1011ء) کی شہرت اگر چہ ریاضی داں کی حیثیت سے ہے مگر اس نے علم ہئیت میں جو شاندار دریافت کی وہ یہ ہے کہ سورج میں کشش ہوتی ہے اور چاند گردش کرتا ہے۔اس نے مزید کہا کہ چاند کی زمین کے گرد گردش کے دوران سورج کی کشش کے اثر کے ماتحت خلل واقع ہوتا ہے، اس وجہ سے دونوں اطراف میں ایک ڈگری پندرہ منٹ کا فرق پڑتا ہے۔علم ہئیت کی اصطلاح میں اس کو ای ویکشن (evection یعنی چاند کا گھٹنا بڑھنا کہتے ہیں۔اختلال قمر کے بارے میں اس کی اس اہم دریافت کی تصدیق ٹائی کو برا ہے (Tycho Brahe) نے چھ سو سال بعد کی تھی اور اہل یورپ کی دھاندلی ملاحظہ ہو کہ اس دریافت کا سہرا بھی ٹائی کو برا ہے کے سر باندھا جاتا ہے۔ہیت پر اس کی نہایت مفید کتاب الکامل تھی جو بطلیموس کی کتاب سے بہت ملتی جلتی تھی۔احمد بن محمد بجستانی (1024ء) نکتہ آفریں ماہر فلکیات تھا جس نے زمین کی گردش کو دلائل کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا۔اس دور کے مسلمان سائنس دانوں نے گردش زمین پر کافی بحث کی تھی اور اس کی مخالفت اور موافقت میں دلائل پیش کیے تھے۔یورپ میں کہا جاتا ہے کہ کو پرٹیکس (1543-1473ء Copernicus) نے سب سے پہلے زمین کی گردش کا نظریہ پیش کیا تھا مگر امر واقعہ یہ ہے کہ بجستانی پانچ سو سال قبل اس نظریے کومشتہر کر چکا تھا۔ابوالحسن علی احمد نسوی (1030ء) کی اہم دریافت وقت کی تقسیم در تقسیم کے لیے ایک نئے طریقے کی ایجاد ہے جسے حساب ستین کہتے ہیں۔اس نے وقت کی ایک ساعت ( گھنٹہ ) یا زاویے کو ساٹھ پر تقسیم کیا، اس ساٹھویں حصے کو اس نے دقیقہ کہا جس کے لفظی معنی ہیں خفیف یا بار یک۔اس دقیقہ کو اس نے دوبارہ تقسیم کیا جسے اس نے ثانیہ کہا اس طرح ساعت کی تقسیم دقیقہ اور ثانیہ میں ہوگئی۔رفتہ رفتہ دقیقہ کے لیے انگریزی میں منٹ (minute) کا لفظ وضع ہو گیا جس کے معنی انگریزی میں خفیف یا باریک کے ہیں۔ثانیہ کے لیے انگریزی میں سیکنڈ (second) کا لفظ بن گیا۔گھڑی کے ڈائیل پر جو ہند سے کندہ ہوتے ہیں اور جو منٹ (دقیقہ ) اور سیکنڈ ( ثانیہ ) میں تقسیم ہیں وہ ابوالحسن ہی کی ذہانت کا کرشمہ ہیں۔ابو علی ابن سینا (1037ء) نے بطور مشاہداتی بیت داں علم فلکیات اور ہئیت میں کئی یادگار کارنامے سر انجام دیے جس کا اندازہ اس کی کتابوں سے لگایا جا سکتا ہے۔کتاب الانصاف ( 20 جلدوں میں ) ، مقالہ فی آلات الرصد یہ مقالہ فی بیت الارض، مقاله في كيفية الرصد ، مقاله فى اجرام السماویہ، قیام الارض في الوسط، مقالة فی خواص خط الاستواء۔اس نے اجرام فلکی کے مشاہدات اصفہان اور ہمدان میں کیسے تھے۔اس نے کہا کہ وینس (Venus) سیارہ زمین کے