مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 37 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 37

61 4 60 سے بھی علاج کیا جاتا تھا، ایسے معالج تعلیم یافتہ ہوتے تھے۔مریضوں کی تفریح کے لیے موسیقار (live) music bands) بلائے جاتے تھے جن کے ہمراہ گویے اور مسخرے بھی ہوتے تھے۔العنوان وفيه موجرة النقرة التي فيها العظام الويدي التيمور بالوهم وحته الجبهة وليه با يليه يكون وعظام الرأى ما لفظها الا هي قوة الآن فيها العالم وقوة اخرنا النفر وعليه يد وبما لا وفى الجهو نقيات وإلى انها التالين لقريات قائم علم الحیوانات پر لکھی گئی دسویں صدی عیسوی کی ایک کتاب کا ایک صفحہ علم الادویہ الکندی کا علم الادویہ (Pharmacology) پر مطالعہ وسیع تھا۔اس نے نئی نئی جڑی بوٹیاں تلاش کر کے ان پر تجربات کیے، ان کی خصوصیات واثرات معلوم کیے اور ان کی درجہ بندی کی۔اس نے اپنے زمانے میں رائج تمام دواؤں کی صحیح خوراک کا تعین کیا۔علاج کے لیے وہ محض دوا پر انحصار نہ کرتا تھا بلکہ پرہیز و احتیاط کی بھی ہدایت دیتا تھا۔اس طرز علاج کو طب وقائی کہا جاتا ہے۔اس موضوع پر اس نے کتاب بھی لکھی جس میں اس نے غذا کے ذریعے علاج کا تذکرہ کرتے ہوئے وہا اور امراض کے اسباب پر بھی بحث کی ہے۔ساتھ ہی روز مرہ کے کھانوں میں ضروری تبدیلیاں کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ابن سینا کی بے نظیر کتاب القانون کی دوسری جلد میں 760 دواؤں کی تفصیل دی گئی ہے جبکہ پانچویں جلد میں مختلف ادویہ اور جڑی بوٹیوں کو ملا کر مرکب دوائیں بنانے کے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔چنانچہ القانون کی یہ دو جلد میں ادویہ مفردہ اور ادویہ مرکبہ پر مشتمل ہیں۔البیرونی جس کا قلم زندگی بھر چلتا رہا، اس موضوع پر اس کی کتاب کا نام الصید نہ فی الطب ہے جس کا جرمن ترجمہ میکس مائیر ہوف (Max Myerhof) نے کیا ہے۔کتاب میں پانچ ابواب ہیں۔720 دوائیوں کے نام تبھی واردیے گئے ہیں۔ہر دوا کا نام عربی، یونانی ،شامی، ایرانی سنسکرت اور بعض دفعہ عبرانی میں دیا گیا ہے۔جڑی بوٹیوں کے احوال کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ ان کی جائے پیدائش کہاں کی ہے۔اس کے علاوہ ان کی تاثیرات بھی بیان کی گئی ہیں۔