مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 30 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 30

47 46 مقالہ فی ذکر الا دویہ ) ، ابن الوافد ( ادوية المفردة ، كتاب الوصاد)، ابن حیان القرطبی (کتاب المتین 60 جلدوں میں)۔ابن الصلت (شاہی طبیب) ، الغافقی ( الادوية المفردة)، ابو القاسم الزہراوی (التصريف ) ، ابن زہر (کتاب التيسير ) ، ابن طفیل ، ابن رشد (کتاب الکلیات)، لسان الدین الخطیب ( کتاب الیوسفی ، 60 کتابوں کا مصنف) کے نام قابل ذکر ہیں۔اعلی و ماغ طبیب عریب بن صاعد (976ء) خلیفہ عبدالرحمن الناصر (961-912ء) کا شاہی طبیب تھا۔اس نے عورتوں کے امراض پر تحقیق کی یعنی حمل کا قیام ، جنین کی حفاظت، زچہ اور بچہ، دایه گیری پر تحقیقات حمل سے متعلق تمام کیفیتوں کے مشاہدات، تجربات اور نتائج قلم بند کرتا رہا اور انہیں کتاب خلق الجنین (964ء) کی صورت میں مرتب کیا۔بن جلجل (994-944ء) اندلس کا مشہور مورخ اور طبی تاریخ نویس تھا اس کی پیدائش قرطبہ میں ہوئی۔14 سال کی عمر میں اس نے طب کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور زندگی کے چوبیسویں زینے پر جب قدم رکھا تو مطب کا سلسلہ شروع کر دیا۔وہ خلیفہ ہشام الثانی کا خاص طبیب تھا۔اس کا علمی شاہکار تاریخ الاطباء الحکما ء ہے جو عربی زبان میں طب کی تاریخ پر مستند کتاب ہے۔اس میں 57 لوگوں کی سوانح عمریاں پیش کی گئی ہیں جن میں 31 مشرقی طبیبوں اور باقی افریقہ اور اندلس کے اطبا اور حکماء کی زندگیوں پر ہیں۔اس کی دو اور کتا ہیں تفسیر اسماء الا دو یہ اور مقالہ فی ذکر الا دو یہ طب پر ہیں۔اس نے ایک اور دلچسپ کتاب لکھی جس میں طبیبوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ایک اور مقالہ ایسی ادویہ پر لکھا جو دیستوریوس (Dioscorides) کی کتاب الحشائش (Materia Medica) میں نہ تھیں مگر اسپین میں پائی جاتی تھیں۔ابن الجزار (1009ء، تیونس) قیروان کا معروف طبیب تھا۔اس کی کتاب زاد المسافر کا ترجمہ یونانی ، لاطینی اور عبرانی میں کیا گیا۔کتاب میں چیچک کے مرض کا بیان بہت ہی حیران کن ہے۔اس نے مصر میں پھیلنے والی طاعون کی وبا کی سائنسی وجوہات پیش کیں۔زاد المسافر کا انگریزی ترجمہ 1998ء میں لندن سے شائع ہوا تھا ( Ibn al-Jazar on sexual 1998 ,diseases, Arabic text & Eng۔London)۔اس نے ایک رسالہ فی نسیان و علاجہ بھی لکھا تھا جس کا ترجمہ 1995ء میں شائع ہوا تھا۔کتاب الاعتماد فی ادویہ المفردة کا لاطینی میں ترجمہ 1230 ء میں کیا گیا تھا۔قلزم انسانیت کا مینارہ ضو بار، ابوالقاسم الزہراوی (1013 ء لاطینی نام Albucasis) قرطبہ کے نزدیک نے تعمیر شدہ شہر الزہراء کا رہنے والا تھا ( راقم الحروف نے 1999ء میں اسپین 10 LL 13 14 17 18 21 23 22 24 20 20 SURGICAL INSTRUMENTS OF THE ARABS, ACCORDING TO ABULCASIM After plates in Gurit's "Geschichte der Chirurgie" 1۔A pincher for extracting foreign bodies from the ear 2۔An ear syringe for injections 3۔A tongue depressor 4۔Concave scissors for the removal of tonsils 5۔Curved pinchers for foreign bodies in the throat Sto ag Instruments for the treatment of the teeth 30۔Forceps at to 25۔Levers and hooks for the removal of roots ad۔Stronk pinchers for the hanie 28 and 29۔Files for the teeth 17۔A tooth saw 6 ابو القاسم زہراوی کے بنائے ہوئے آلات سر جبری