چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 93 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 93

93 چاندوسورج گرہن مہدی کی صداقت کے دو عظیم نشان۔چاند سورج گرہن قرآن کریم میں امام مہدی کے لئے سورج و چاند گرہن کے نشان کا ذکر اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القيامة 8-10) کہ جب نظر چندھیا جائے گی اور چاند گہنا جائے گا اور سورج اور چاند دونوں کو جمع کر دیا جائے گا۔ان آیات میں آخری زمانہ میں مہدی معہود کی صداقت میں ظاہر ہو نیوالے نشان یعنی رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کو گرہن لگنے کی طرف اشارہ ہے۔اس آیت کی تفسیر میں علماء سلف کی رائے بالعموم مفسرین نے اس آیت کو قیامت کی وہ آخری نشانی قرار دیا ہے جس کے پورا ہونے کی صورت میں نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا اور چاند اور سورج مکمل طور پر بے نور ہوکر تباہ ہو جائیں گے۔یہ واقعہ جو اپنی ذات میں آپ قیامت ہے ، قیامت کی دلیل کیسے بن سکتا ہے ؟ پس اس آیت میں خسف کے معنے چاند سورج گرہن کے ہیں کیونکہ کسوف و خسوف ہم معنی ہیں اور ان کا مطلب چاند یا سورج کی روشنی کا وقتی طور پر زائل ہونا اور ان میں تغیر آجانا ہے اور خسوف میں چاند اور سورج کے جمع ہونے سے مراد دونوں کو قرب قیامت کی نشانی کے طور پر گرہن لگنا ہے نہ کہ قیامت کا بر پا ہونا۔یہی وجہ ہے کہ بعض محقق علمائے سلف نے قیامت سے پہلے چاند سورج گرہن کے یہ نشانات انذار وتخفیف کی خاطر پر بیان کیے ہیں جن میں علامہ خطابی، علامہ احمد مکرم عباسی اور علامہ ابن عربی کے حوالے بطور نمونہ پیش ہیں۔علامہ ابن عربی نے تو اس نشان گرہن کو امام مہدی کے ظہور سے منسلک کیا ہے۔ان کی بات میں اس لئے بھی زیادہ وزن ہے کہ انذار و تخویف کے یہ نشان امام مہدی کے ظہور کے بعد ان کے انکار پر ظاہر ہی ہوں گے تاکہ دنیا مہدی کی طرف رجوع کرے۔