چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 61 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 61

نصر الباري بیع کی تعلیل ہوگی۔61 عکس حوالہ نمبر : 12 نزول مسیح اور ارشادات نبویہ علی كتاب التفسير وقال ابن عباس متوفيك ممتل اشارہ ہے آیت کریمه اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الى۔(سوره آل عمران ) اور ابن عباس نے فرمایا ہے کہ متوفیک کے معنی ہیں مینک یعنی میں کچھ کو مار ڈالنے والا ہوں ، یہ لفظ تونیک اس سورہ یعنی سورہ کا مکہ میں نہیں ہے اس لئے شارح بخاری علامہ عینی اور اس مقام پر ناراضنگی و نلگی ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ بے محل ہے۔لیکن امام بخاری روتے اس کو سورہ مائدہ میں اس مناسبت سے لایا ہے کہ اس سورہ میں سے فلما تو فسقيتني كنت انت الرقيب عليهم ، ظاہر ہے کہ دونوں کا مادہ ایک ہے اس لئے اس کی تفسیر سیر یہاں بیان کردی ہے۔حمد ثنا موسى بن اسمعيل قال حدثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب قال البحيرة التي يُمنع درها للطواغيت فلا يحلبها احد من الناس، والسائبة التي كانوا يستبونها لا يهتهم لا يحمل عليها شئ قال وقال ابو هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رأيت عمرو بن عامر الخزاعي قصبه في النار كان أول من سيب السوائب، والوصيلة الناقة البكر تبكر فى اول نتاج الابل ثم تثني بعد بانثى وكانوا ليسلبونها لطواغيتهم إن وصلت احداتهم بالأخرى ليس بينهما ذكر والحام فحل الابل يضرب الخيرات المحدود فاذا قضى ضرابه ودعوه للطاغيت واعفوه من الحمل فلم يحمل عليه فى وسموه الحام وقال لى ابو اليمان اخبرنا شعيب عن الزهري قال سمعت سعيد : قال يخبره بهذا قال وقال ابو هر مرة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ورواه ابن الهاد عن ابن شهاب عن سعيد عن ابي هريرة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ترجم له حضرت سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کا دودھ بنوں کے نام پر روک لیا جائے (یعنی بتوں کے لئے وقف کر دیا جائے) پھر اس کا دودھ کوئی شخص نہ در ہے۔اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو وہ اپنے بتوں کے نام پر آنا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر کوئی چیز لادی نہیں جاتی رنہ کوئی سواری کی جاتی ریعنی سانڈ ، قال وقال ان سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابو ہریرہ رضہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی آنتوں کو گھسیٹ رہا تھا، اس نے سے پہلے سائبہ (سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی، اور وصیلہ وہ نوجوان اونٹنی تھی جو پہلے پہل اونٹنی زیادہ بچہ جنتی پھر دوسری مرتبہ بھی اونٹنی ہی جنتی ریعنی نراونٹ نہیں جنتی ، ایسی اونٹنی کو بھی وہ بہتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے، اگر وہ لگاتار دو بار اونٹنیاں جنتی تو ان دونوں اداروں کے درمیان کوئی کر یہ نہ ہوتا ، اور عام (حامی، وہ نراونٹ تھا جو مادہ پر شمار کی ہوئی بستیں کرتا ر جفتی کرتا، پھر جب اپنی مقررہ تعداد پوری کر لیتار اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے) تو اس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے