چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 56
56 بائیل میں مسیح موعود کا سن ظہور ۲۶:۲۴ عکس حوالہ نمبر : 10 متی ۱:۲۵ (۲۲) پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو نوح کے دنوں میں ہو اؤ یا ہی ابن آدم کے آنے کے وقت ہو باہر نہ جانا یاد کھو وہ کوٹھریوں میں ہے تو یقین نہ کرنا (۷) کیونکہ گا (۳۸) کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں جیسے بجلی پورب سے کو نہ کر پچھنم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہو ا (۳۹) اور جب تک طوفان آکر ان سب ابن آدم کا آنا ہوگا (۲۸) جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے کو بہانہ لے گیا ان کو خبر نہ ہوئی اس طرح ابن آدم کا آنا ہوگا۔ابن آدم کی آمد (مرقس ۲۴:۱۳-۲۷؛ کو ق ۲۵:۲۱-۲۸) (۴۰) اس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے ایک لے لیا جائے گا (۲۰) اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا (۳) دو عورتیں چنگی چیستی ہوں ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گی۔ایک لے لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی ؟ کریں گے اور آسمانوں کی قوتیں بلائی جائیں گی (۳۰) اور (۲۲) پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا اُس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا۔اور اُس خُداوند کیس دن آئے گا (۴۳) لیکن یہ جان رکھو کہ اگر گھر وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کے کون سے پہر آئے گا قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا (۴۴) اس دیکھیں گی (۳۱) اور وہ نرینگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے لئے تم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تم کو کمان بھی نہ ہوگا فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے اپنا آدم آ جائے گا آسمان کے اس کنارے سے اس کنارے تک جمع کریں گے ؟ دیانتدار یا بد دیانت نوکر (گو قا۱۲ ۴۱-۴۸) انجیر کے درخت سے سبق (۳۵) پس وہ دیانتدار اور نظمند نوکر کون سا ہے جسے (مرقس ۱۳: ۲۸-۳۱؛ کو قا ۲۹:۲۱-۳۳)۔مالک نے اپنے نوکر چاکروں پر مقرر کیا تا کہ وقت پر اُن (۳۲) اب انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو۔کو کھانا دے؟(۲۱) مبارک ہے وہ نوکر جیسے اُس کا مالیک آ جونہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتے نکلتے ہیں تم جان لیتے ہو کہ کر ایسا ہی کرتے پائے (۴۷) میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ وہ گرمی نزدیک ہے (۳۳) اسی طرح جب تم ان سب باتوں اسے اپنے سارے مال کا مختار کر دے گا (۸) لیکن اگر وہ کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ پر ہے 2 (۳۳) میں خراب نو کر اپنے دل میں یہ کہہ کر کہ میرے مالک کے آنے تم سے بیچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں پینسل میں دیر ہے (۳۹) اپنے ہم خدمتوں کو مارنا شروع کرے اور ہرگز تمام نہ ہوگی (۳۵) آسمان اور زمین مل جائیں گے لیکن شرابیوں کے ساتھ کھائے ہے (۵) تو اُس نوکر کا مالک ایسے میری باتیں ہر گز نہ ملیں گی ؟ دن کہ وہ اُس کی راہ نہ دیکھتا ہو اور ایسی گھڑی کہ وہ نہ جانتا ہو آ اُس دن اور گھڑی کو کوئی نہیں جانتا ( مرقس ۳۲:۱۳-۳۷؛ لوقا ۲۶:۱۷-۳۰، ۳۴-۳۶) شامل کرے گا۔وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگاں (۳۶) لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں دس گنواریوں کی تمثیل موجود ہو گا (۵) اور خوب کوڑے لگا کر اُس کو ریا کاروں میں جانتا۔نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ (۳۷) جیسا ۲۵ (۱) اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس گنواریوں کی ٣٣٩