چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 38
38 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر 6 چھٹی آیت : هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (الزخرف 67) کیا وہ اس کے سوا کچھ اور انتظار کر ہے ہیں کہ (قیامت کی گھڑی ) ان کے پاس اچانک اس طرح آجائے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔علامہ ابن عربی ( متوفی : 628ھ) نے اس آیت سے ظہور مہدی مراد لیا ہے۔وہ فرماتے ہیں:۔66 ” مہدی کا ظہورا چانک ہو گا اس حال میں کہ لوگ اس سے غافل ہوں گے۔( تفسیر ابن عربی جلد دوم صفحه 220 مطبوعہ 1238ھ مصر۔ملاحظہ ہو کس برصفحہ 17 ) نواب نورالحسن خان صاحب لکھتے ہیں :۔بعض علماء نے اس آیت شریف هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً اور قوله تعالى وَلَا تَأْتِيهِمُ إِلَّا بَغْتَةً سے یہ استدلال کیا ہے کہ قیامت سن سات میں بعد چار سو برس کے قائم ہو جائے گی اس لیے کہ عد دحروف بغتة“ کے ایک ہزار چار سوسات ہوتے ہیں وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللهِ تعالی۔اس بناء پر مشتمل ہے کہ مہدی علیہ السلام سر صدی پر برآمد ہوں۔یہ احتمال قوی ہے بلکہ صدی سے پہلے بھی اگر آ جاویں تو کچھ دور نہیں ہے۔ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر 4: اقتراب الساعة مصنفہ نواب نورالحسن خان 1301ھ صفحہ 220 - مطبع مفید علم الکائنہ گرہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ غلام احمد قادیانی، جن کے نام کے اعداد بحساب جمل بھی تقدیر الہی سے 1300 بنتے ہیں ، چودھویں صدی کے سر پر مسیح و مہدی بن کر مبعوث ہوئے اور 1311ھ میں آپ کے حق میں مہدی کے لئے رسول اللہ ﷺ کے بیان فرمودہ نشان چاند و سورج گرہن بھی ظاہر ہوئے۔لے مزید تفصیل کیلئے دیکھیں الصراط السوی فی احوال لمھدی مصنفہ 1335ھ جس میں علامہ محمد سبطین السرسوی نے 41 آیات سے ظہور مہدی کا استدلال کیا ہے۔