چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 36
36 ترجمہ: ”حضرت عیسی " قیامت کبری کی عکس حوالہ نمبر : 3 نشانیوں میں سے ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے *(519)0 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر (بقیہ ترجمہ ) اور امام کا پیچھے ہٹنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کہ اس (صحیح) کا نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔مقدسہ کی گھائی پر جس کا نام افیق ہے اترے گا اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا جس سے وہ (مسیح) کے وقت میں دین محمدی کو من شدته وا بلامه وانه لعل الساعة أى أن عيسى عليه السلام مما اپنے رتبہ اور مقام میں باقی تمام (روحانی ) قطب کی وجہ سے ہے اور دینوں پر اولیت حاصل ہونے کا حدیث میں کیا گیا ہے کہ وہ (ہی) ارض بعد لویہ القيامة الكبرى وذلك أن نزول من اشراط الساعة قبل علمية في الحديث ينزل على ثنية من الأرض المقدسة اسمها أفق و ی ویدہ احساس ہوگا جو اس کے مقام جال کومل کرے گا ور وہ صلیب توڑے گا اور حربہ بقتل بها الدجال ويكسر الصليب ويهدم البيع والكائر حضرت عیسی کو اس امام کا آگے کرنا وہ وہ ) وہ گرتے اور کیسے گرائے گا اور وہ بیت و يدخل بيت المقدس والناس في صلاة الصبح فيتأخر الامام فيقدمہ اور شریعت محمدیہ پراس کی اقتدا کرنا المقدس میں داخل ہوگا اور لوگ صبح کی نماز میں عیسی علیہ السلام و اصلى خلفه على دين محمد صلى الله عليه وسلم لمت مصطفویہ اسلامیہ کی پیروی اور ہوں گے تو امام پیچھے بہے گا اور حضرت عیسی فالنفسة المعمان أفق اشارة الى مظهره الذى يتجد فيه والارض شریعت محمدی ) تبدیل نہ اس کو آگے کریں گے اور اس کے پچھے دین حمد المقدمة الى المادة الظاهرة التي يكون منها جسد، والحرية اشارة الى ہونے کی طرف اشارہ ہے۔اور در اصل اس حدیث میں انیق نامی گھائی میں صورة القدرة والشركة التي تظهر فيها وقتل الدجال بها العمارة الی اگر چہ وہ (صحیح) ان لوگوں کو ظاہری توحید سکھائے گا اور ان کو قیامت اشارہ اس (مسیح) کے اس مظہر یا طل کی عالیہ علی المتغلب المضل" الذى يخرج وفى زمانه وكسر الصليب ﷺ کی پیروی میں نماز پڑھیں گے۔إلى کبری کے حالات اور باقی رہنے عطا کرے گا۔طرف ہے جس میں مجم ہو کر وہ آئے گا اور وهدم السمع والكنائس إشارة إلى رفعه الاديان المختلفة والے چہرے کے طلوع کی معرفت ارض مقدسہ سے مراد وہ پاک مادہ ہے جس او د خولہ بیت المقدس اشارة الى وصوله الى مقام الولاية الذاتية سے اس (صحیح) کا جسم بنے گا اور نیزہ اس في الحضرة الالهية الذى هو ستقام القطب وكون الناس في صلاة | یہ اس صورت میں ہے جب مہدی قدرت اور شوکت کی طرف اشارہ ہے جس میں وہ ظاہر ہوگا اور قل دجال اس (مسیح) کے الصبح اشارة الى اتفاقي المحمدين على الاستقامة في التوحيد عند خود عیسی بن مریم ہو جیسا کہ حدیث غلیہ کی طرف اشارہ ہے جو اسے گراہ کرنے طلوع صبح یوم النسامة الكبرى إذا هورنورشمس الوحدة وتأخر میں آیا ہے لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى والے اس غالب کے خلاف حاصل ہوگا جو الامام اشارة الى شعور المقام بالدين المحمدى فى وقته تقدمہ علی اور اگر مہدی اس کے علاوہ کوئی اور ہو تو بیت المقدس میں اس کے داخلے اس کے زمانے میں خروج کرے گا اور سر الكل في الرتبة امكان قبيته وتقديم عيسى عليه السلام ايله صلیب اور گرجے اور کیسے گرانے میں اس (صحیح) کے مختلف ادیان کو شکست دینے کی اس واقتداؤه به على الشريعة المحمدية اشارة الى متابعته الدالة سے مرا داس مقام مشاہدہ میں داخل ہونا ہے جو مقام قطب سے ورے ہے میں ہٹتا ہے طرف اشارہ ہے اور بیت المقدس میں ان المصطفوية وعدم تغير الشرائع وان كان يعلم التوحيد العمانی ہے اور امام جونماز میں چھے آتا ہے (صحیح) کے داخلیہ سے مراد اس کے حضرت وبعر فهم أحوال القيامة الكبرى وضلوع الوجه الباقى هذا اذا وہ مہدی ہے اور باوجود یکہ وہ اپنے الوہیت میں ذاتی مقام ولایت کی طرف سكان المهدى عيسى بن مريم على ماروى في الحديث لا مھدی الا زمانے کا قطب ہے اس کا پیچھے بنا اشارہ ہے جو قطب کا مقام ہے اور لوگوں کے عيسى بن مريم وإن كان المهدى شيره فدخوله بيت المقدس رصوله صاحب ولایت اور صاحب نبوت محمدی یعنی مسلمان بوجہ وحدت کے نور کے والی محل المشاهدة دون مقام القعاب والامام الذى يتأخر هو المهدى صبح کی نماز میں ہونے میں یہ اشارہ ہے کہ : (عیسی) کے ادب و لحاظ کی وجہ سے ہے اور حضرت عیسی کا اس (مسیح) کو ظاہر ہونے کے قیامت کبری کی بح طلوع وانما يتأخر مع كونه قلب الوقت مراعاة الادب صاحب الولاية من امامت میں آگے کرنا اس کے مقام ہونے کے وقت توحید پراستقامت سے قائم صاحب النبوة وتقديم عيسى عليه السلام اياء لعله يتقدمه في نفس قطب کے علم کی افضلیت واولیت کی م ہوں گے۔(بقیہ ترجمہ) وجہ سے ہے۔