چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 291
291 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی اس ڈوبتی کشتی کو سنبھال لے۔۔۔یہ سب کچھ ہورہا تھا۔۔۔لیکن یہ بھی کہتے ہیں مسیح کی ضرورت نہیں اور یہ کہ مہدی یا مسیح کا ابھی وقت نہیں آیا۔۔۔ان علماء کو اگر وہ حقیقت میں علماء ہیں غور کرنا چاہئے سوچنا چاہئے کہ یہ پرانے بزرگوں کی بتائی ہوئی خبریں ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں قرآن کریم نے بھی مسیح کے آنے کی کچھ نشانیاں بتائی ہیں۔ان پر غور کریں اور یہ کہہ کر عوام کو گمراہ نہ کریں کہ ان ساری باتوں کا ، ان آفات کا مسیح کی آمد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔پس یہ حال ان علماء کا دیکھ کر ہمیں خاموش نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ کوشش کر کے ہر مسلمان کو ان کا یہ حال بتانا چاہئے کہ انہوں نے تو اللہ ورسول کی بات نہ مان کر اس انجام کو پہنچنا ہے جہاں اللہ کی ناراضگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔لیکن اے مسلمانو ! اگر تم اللہ کی رضا چاہتے ہو، دنیا، دین اور آخرت بچانا چاہتے ہو تو اس وقت اس زمانے کے حالات پر غور کرو اور تلاش کرو کہ یہ زمانہ کہیں مسیح موعود کا زمانہ تو نہیں ہے اور مسلمانوں کی یہ بے چارگی کی حالت اور یہ آفات وغیرہ بے وجہ کی دلوں کی سختی کا نتیجہ تو نہیں ہے۔۔۔پس ائمہ نے قرآن وحدیث سے علم پا کر بتا دیا کہ مسیح موعود اس زمانے میں ہو گا۔علماء سابقہ اور موجودہ نے کہا کہ اس زمانے کے حالات بتارہے ہیں، مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ نبی ہونا چاہئے۔قرآن کریم نے نشانیاں بتا دیں جن میں سے بعض کا میں نے ذکر کیا ہے۔یہ آخری زمانے کی باتیں ہیں، جب یہ باتیں ہورہی ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ مسیح موعود کا زمانہ ہی ہے۔۔۔سورۃ تکویر میں جہاں اس زمانے کے حالات کی پیشگوئیاں ہیں وہاں اسلام کی