چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 269
269 عکس حوالہ نمبر: 75 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ جامع ترندی جلد ) أَبْوَابُ الْإِيمَانِ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں تکرار کی مہلت نہیں۔اللهم جنبنا من كلها وارزقنا اتناع السنة وامتنا عليها۔١٥٦٥: بَابُ افْتِرَاقِ هَذِهِ الْأُمَّةِ باب : افتراق امت کے بیان میں ۳۷۰ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّی ۲۶۴۰: روایت ہے ابی ہریرہ سے کہ رسول اللہ صل للہﷺ نے فرما یا متفرق ہو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلی گئے یہودا کہتر بہتر فرقوں پر اور نصاری بھی اسی کی ماننڈ اور ہو جائے گی إحدى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً أو النقين وسبعين فرقة- میری امت تہتر فرقے۔ف: اس باب میں سعد اور عبداللہ بن عمر اور عوف بن مالک سے بھی روایت ہے حدیث ابی ہریرہ کی حسن ہے صحیح ہے۔۲۶۴۱ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ ۲۶۴۱: روایت ہے عبداللہ بن عمرو سے کہ فرمایا رسول اللہ کی ایم نے آئے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْتِيَنَّ عَلى أمنى ما گا میری امت پر ایک ایسا زمانہ جیسا کہ آیا تھا بنی سرائیل پر اور مطابق الي عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ہوں گے دونوں کے زمانہ جیسے مطابق ہوتی ہے ایک نعل دوسرے نعل حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى امه علانیہ لگان کے یہاں تک کہ اگر ہوگا اُن میں کوئی شخص ایسا کہ وہ زنا کرے اپنی ماں فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي اِسرائیل سے علانیہ تو ہو گا میری امت میں سے ایسا شخص کہ مرتکب ہو اس امر شفیع تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِفُ امنی کا اور بنی اسرائیل متفرق ہوئے بہتر مذہبوں پر اور متفرق ہوگی میری كُتُهُمْ فِى النَّار الامله امت تہتر مذہبوں پر سب اہل مذہب دوزخی ہیں مگر ایک مذہب والے على : وَاحِدَةً قَالُوا وَ مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله قال ما انا عرض کی صحابہ نے کہ وہ کون ہیں یا رسول اللہ کی تین ہم آپ میں یہ ہم نے جس پر عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي میں ہوں اور میرے اصحابی یعنی کتاب وسنت پر۔اللہ: یہ حدیث حسن ہے غریب ہے مفسر ہے نہیں جانتے ہم مشکل اس کی مگر اسی سند سے۔مترجع : شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے حجۃ اللہ میں لکھا ہے فرقہ ناجیہ وہ ہے کہ تمسک ہو اس نے عقیدہ اور عمل میں بالکلیہ ظاہر کتاب و سنت پر اور جس پر گذرے ہیں جمہور صحابہ و تابعین اگر چہ مختلف ہوں وہ فیما بینھم ان چیزوں میں کہ جس میں نص جلی نہ ہو اور نہ ظاہر ہوا ہو صحابہ سے اس میں کوئی امر متفق علیہ اور وجہ ان کے اختلاف کی استدلال کرنا ہو ان کا بعض کتاب وسنت پر سے یا تفسیر ہو ان میں سے کسی مجمل کی اور غیر ناجیہ وہ فرقہ ہے کہ متحمل ہو گیا ہو کسی عقیدہ میں خلاف عقیدہ سلف کے یا کسی عمل میں سوا ان کے عملوں کے اتھلی اور یہ قول گو یا بعنہ تفسیر ہے آنحضرت مسلم کے قول مبارک کی جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ) اور اس حدیث میں کلام ہے اس سے زیادہ کہ تفصیل اس کی مذکور ہے ( يقظة اولى الاعتبار مما دروفی ذکر النار واصحاب الدار) میں اور یہ کتاب بیان نار میں بے نظیر ہے کہ اسلام میں شاید اس کا ثانی تصنیف نہ ہوا ہو۔۳۷۳۲ : عَن عبد الله بن عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ ۲۶۳۲: روایت ہے عبداللہ بن عمرو سے کہتے تھے کہ سامیں نے رسول رسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالى خلق اللہ سے کہ فرماتے تھے بے شک اللہ بزرگ و برتر نے پیدا کیا اپنی مخلوق کو خَلْقَهُ فِي ظُلُمَةٍ فَا لَقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَن یعنی جن و انس کو تاریکی میں پھر ڈالا ان پر نور سو جس پر پہنچا وہ نور اس نے أَصَابَةَ مِنْ ذلِكَ النُّورِ اهْتَدَى وَمَنْ اَخْطَاةَ ضَلَّ راہ پائی اور جس کو نہ پہنچاوہ گمراہ ہو گیا اس لیے میں کہتا ہوں کہ سوکھ گیا قلم فيذلِكَ أَقُولُ جَقَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلم اللَّهِ علم الہی پر۔