چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 264
264 ترجمه مکتوبات عکس حوالہ نمبر :74 ۱۹۵ لوگوں کے لئے یکساں حکم ہے حکیم ثانی حکم اول کا ناسخ ہے : امام ربانی دفتر دوم پس ہمارے بغیر صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی سنت پہلی سنت کی ناسخ ہوگی۔حضرت پنے علے نبیاء علیہ الصلوۃ والسلام جو نزول کے بعد اس شریعت کی متابعت کرینگے۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا اتباع بھی کریں گے کیونکہ اس شریعت کا نتے جائیے نہیں بیج نہیں کہ علماء ظاہر حضرت بلئے علیہ السلام کے مجترات سے ان کے ماخذ کے کمال قیق اور پوشیدہ ہونے کے باعث انکار کر جائیں۔اور ان کو کتاب وسنت کے مخالف جائیں۔حضرت علے روح اللہ کی مثال حضرت امام عظم کو فی رحمتہ اللہ علیہ کی سی شال ہے۔جنہوں نے درع و تقوے کی برکت اور سنت کی متابعت کی دولت سے اجتهاد اور استنباط میں وہ درجہ بلند اصل کیا ہے۔جس کو دوسرے لوگ سمجھ نہیں سکتے۔اور ان کے مجتہدات کو وقت معافی کے باعث کتاب وسنت کے مخالف جانتے ہیں۔اور ان کو اور ان کے اصحاب کو اصحاب رائے خیال کرتے ہیں۔یہ سب کچھ ان کی حقیقت و درایت تک نہ پہنچنے اور ان کے فہم و فراست پر اطلاع نہ پانے کا نتیجہ ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے کہ جس نے ان کی فقاہت کی باریکی سے تھوڑا سا حصہ حاصل کیا ہے۔فرمایا ہے کہ الفقهاء كلهم عيال إلى حنيفة - القاب البوحنيفہ کے عیال ہیں۔ان کم ہمتوں کی جرات پر افسوس ہے کہ اپنا قصور دوسروں کے ذمے لگاتے ہیں۔بیت قاصر کے گر کند این طائف را عون قصور حاش میشد که بر آدم بیزیان این گله را رالوی اش که بر ہمہ شیران جہاں نبسته این سلسله اند رویه از حیله جان تجلد این عسل همه ترجمه مت گر کوئی قاصد گائے طعن انکے حال پر تو بہ تو بہ گر زبان پر لاؤں میں اس کا گلہ شیر ہیں باندھے ہوئے ہیں سلسلہ میں ہے کہ لومڑی حیلہ سے توٹے نے کس طرح یہ سلسلہ اور یہ جو خواجہ محمد بار سارحمتہ اللہ علیہ نے فصول ستے میں لکھا ہے کہ حضرت علئے علی السلام نزول کے بعد امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق عمل کرینگے۔ممکن ہے کہ اسی مناسبت کے باعث جو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت عیسے کے ساتھ ہے لکھا ہو یعنی حضرت دعوی مسیح و مهدی