چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 24
24 غلام احمد قادیانی کے اعداد بحساب جمل : قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر غ لام ح م و ق , ی 1 40 1 408 4 100 1 4 10 30 1000 ن ی میزان 1300 10 1 50 3 - تیسری آیت: وَاخَرير الْعَزِيزُ الْحَكِيمِ ( الجمعة: 4) ايَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ یعنی انہی (امین) میں سے دوسروں کی طرف بھی (اس رسول کو مبعوث کیا ہے ) جو ابھی اُن سے نہیں ملے ، وہ کامل غلبہ والا اور صاحب حکمت ہے۔سورۃ جمعہ کی اس آیت کی بیان فرمودہ تفسیر نبوی صحیح بخاری میں یہ ہے کہ ” آخرین“ سے مراد اہل فارس ہیں جو ایمان کے دنیا سے اٹھ جانے اور ثریا کی بلندی پر چلے جانے کے بعد اُسے واپس لا کر دنیا میں قائم کریں گے۔(بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الجمعة) علامہ موسیٰ جار اللہ ترکستانی (متوفی: 1949ء) نے سورۃ الجمعہ کی تیسری آیت کی تفسیر علم کلام اور نحو کی رو سے کرتے ہوئے دوسری آیت کے جملہ فی الامیین“ کے حرف جار ” فِی “کو تیسری آیت و آخرین پر عطف قرار دیتے ہوئے یہ تقدیر مراد لی ہے وَ بَعَثَ فِي آخَرِيْنَ رُسُلاً مِنْهُمْ۔پھر اس آیت کے معنی بیان کرتے ہوئے علامہ موسیٰ جار اللہ فرماتے ہیں:۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ خدا جس نے امیین میں ایک رسول امیوں میں سے بھیجا وہی آخرین میں سے رسول ان میں بھیجے گا۔اس طرح ہر قوم کا رسول اس میں سے ہوگا اور یہ سب رسول امتوں میں اسلام کے رسول ہونگے۔بنی اسرائیل کے ان نبیوں کی طرح جو بنی اسرائیل میں تو رات کے رسول تھے۔" ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 1: کتاب فی حروف اوائل السور صفحہ 133 بیت الحکمہ لاہور 1942