چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 22
22 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر کے بعد (یعنی 1300 سال بعد ) مقدر تھا۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا بہترین زمانہ میری صدی ہے۔اس کے بعد بہتر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر ان لوگوں کی صدی جوان کے بعد ہوں گے۔پھر ان کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں جھوٹ عام ( بخاری کتاب المناقب باب فضائل اصحاب النبي ) ہوگا۔صلى الله حضرت بانی جماعت احمدیہ نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس آیت میں ایک پیشگوئی تھی جو خیر القرون ( پہلی تین صدیوں ) اور ہزار سالہ دور ضلالت کے بعد چودھویں صدی میں آنے والے مسیح و مہدی پر زبردست دلیل ہے اور یہ آپ کے وجود میں پوری ہوئی۔آپ فرماتے ہیں:۔یہ انسان ہی مسیح موعود ہے۔اس کی بعثت ان صدیوں سے جو بہترین صدیاں تھیں ،ایک ہزار برس گزرنے کے بعد مقدر کی گئی تھی۔۔۔۔اس میں مشرکوں کی کثرت ہو گئی تھی سوائے چند لوگوں کے جو تقویٰ شعار تھے۔یہ پورے ایک ہزار برس ہیں نہ اس سے زیادہ نہ کم۔پس اگر تم سوچ بچار سے کام لو تو اس سے 66 بڑی دلیل اور کیا ہوگی۔“ خطبہ الہامید اردو ترجمه صفحه 255-257) 2 - دوسری آیت: وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاسْكَتْهُ فِي الْأَرْضِ وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ (المؤمنون : 19) اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی اتارا پھر اسے زمین میں ٹھہرادیا اور ہم اسے لے جانے پر بھی یقیناً قدرت رکھتے ہیں۔اس آیت میں آسمانی روحانی پانی ( یعنی نور نبوت) کے روئے زمین پر نازل ہو کر اس وقت تک موجود رہنے کا ذکر ہے جب تک خدا چاہتا ہے پھر وہ اسے اٹھا لیتا ہے اور اپنی پیاسی مخلوق کے لئے تازہ پانی کا انتظام کرتا ہے۔ان معنی پر مزید قرینہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ہیں جو 1274 بنتے ہیں اور یہ عجیب توارد ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کی 1250ھ قادیان میں پیدائش پر آپ کا نام ”غلام احمد“ رکھا گیا اور ” غلام احمد قادیانی کے اعداد 1300 بنتے ہیں ( یعنی تیرھویں صدی) اور اس آیت کے