چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 21 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 21

21 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر قرآن کریم میں متفرق مقامات پر آخری زمانہ میں امام مہدی کے ظہور کی خبر کے ساتھ اس کے زمانہ ( چودھویں صدی) کی طرف بھی اشارہ ہے۔چند آیات مع مختصر وضاحت پیش ہیں:۔1- پہلی آیت: يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ( السجدة : 6) یعنی وہ (اللہ ) آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا۔پھر وہ اس کی طرف ایسے وقت میں جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گنتی کرتے ہو، چڑھنا شروع کر دے گا۔عام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں امر (شریعت) کے آسمان سے نزول اور پھر عروج سے مراد فرشتوں کا آسمان سے اترنا اور واپس جانا ہے۔اس معنی کے مطابق فرشتے زمین پر ہر حکم بجالانے کے بعد آسمان کی طرف واپسی کے لئے ایک ہزار سال انتظار کرتے ہیں جو عقلاً درست نہیں کیونکہ اس کے نتیجہ میں سارا نظام عالم اور سلسلہ موت وحیات بھی درہم برہم ہو کر رہ جائے جو ملائکہ کے ذریعے قائم ہے۔فرشتوں کا تعمیل حکم کے بعد ایک ہزار سال انتظار کا معنی اس لئے بھی درست نہیں کہ ملائکہ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم: 7) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی فوری تعمیل کرتے ہیں نہ کہ ایک ہزار سال انتظار۔دراصل مذکورہ بالا آیت میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی پیشگوئی ہے جیسا کہ الفاظ اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا میں خبر دی ہے۔پھر فرمایا کہ اس کے بعد ایک ہزار سالہ دور ایسا آئے گا جس میں احکام قرآنی اور ان پر عمل اٹھ جائے گا۔تب اللہ تعالی ایک آدم ثانی یعنی مسیح موعود کو تجدید دین کے لئے مبعوث فرمائے گا اور وہ زمانہ خیر القرون یعنی پہلی تین صدیوں سے ایک ہزار سالہ دور ضلالت