چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 224
ترجمه مکتوبات 224 عکس حوالہ نمبر : 67 ۲۴۴ علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی امام ربانی دختر دم لقد جاءَت رسل ربنا بالحق اللہ تعالے کی حمد ہے جس نے ہم کو ہدایت دی اور اگر ور ہم کو ہدایت نہ دیتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے۔بیشک ہمارے اللہ تعالیٰ کے رسول حق کے ساتھ آئے ہیں : صحیفہ شریفہ جو فرز ند عزیز نے مولانا ابوالحسن کے ہمراہ روانہ کیا تھا پہنچا۔اور بڑی خوشی صل ہوئی تم نے ستون کی نسبت جو مشرق کی طرف سے پیدا ہوا تھا۔دوبارہ دریافت کیا ہے ؟ سو جاننا چاہئے کہ شہر میں آیا ہے۔کہ جب عباسی پادشاہ جو حضرت مہدی رضہ کے ظہور کے مقدمات میں سے ہے۔خراسان میں پہنچ گیا۔مشرق کی طرف قرن در سنین رود نداند والا سینگ ، طلوع کریگا۔اس کے حاشیہ میں لکھا ہے۔کہ ستون مذکور کے دو بسر ہو نگے۔پہلے پہل اس وقت طلوع ہوا تھا۔جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ہلاک ہوئی تھی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ واستسلام کے زمانہ میں طلوع ہوا تھا۔جب کہ ان کو آگ میں ڈالا تھا۔اور فرعون اور اس کی قوم کے بلاک ہونے کے وقت بھی طلوع ہوا تھا۔اور حضرت کیجئے علیہ الصلوۃ والسلام کے قتل کے وقت بھی ہوا تھا۔جب اس کو دیکھیں۔حق تعالے کی بارگاہ میں فتوں کی شر سے پناہ مانگیں۔یہ سفیدی ہو مشرق کی طرف سے طلوع ہوئی تھی۔اول ستون منتور کی صورت نہیں تھی۔بعد ازاں ٹیڑھی ہو کو سینگ کی مانند ہو گئی۔شاید اسی اعتبار سے فرمایا ہو کہ اس سینگ کے دو نو ظرف دانتوں کی طرح باریک ہو گئے تھے۔ان دونو طرفوں کو دوسر اعتبار کیا ہے۔جیسے کہ نیزہ کے دو نو طرت باریک ہوں۔اور ان کو دوسر اعتبار کریں - برادرم شیخ محمد طاہر بخشی جونیور سے آیا ہے۔اور کہتا ہے۔کہ اس ستون کے اوپر کی طرف دانتوں کی طرح دو سر تھے جن میں تھوڑا سا فاصلہ تھا جنگل میں اس بات کو تشخیص کیا تھا۔اور لوگوں نے بھی اسی طرح شہر دی ہے - یہ طلوع اس طلوع سے الگ ہے۔جو حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کے آنے کے وقت پیدا ہو گا۔کیونکہ حضرت مہدی رضی اللہ عنہ صدی کے بعد آئینگے۔اور ابھی تو میں سے اٹھائیس سال گزرے ہیں + نیز حدیث میں حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالے منہ کی علامتوں میں آیا ہے کہ مشرق کی طرف سے ایک ستارہ طلوع کریگا جس کی اوم نورانی ہو گا۔یہ ستارہ جو