چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 215 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 215

215 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی میں دنیا کے گلوبل و پیج (Global Village) بننے کا نقشہ اپنے عروج پر ہے۔ب۔اس آیت کے دوسرے معنے ایک حدیث کی روشنی میں یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ہر آدمی کو اس جیسے عمل کرنے والے سے ملا کر جوڑ دیا جائے گا۔چنانچہ چودہویں صدی میں عیسائیت ہندوستان میں آئی تو کئی کمزور ایمان لوگ اسلام چھوڑ کر عیسائی ہوئے اور اپنی جیسی آزاد خیال انگریز عیسائی عورتوں سے شادیاں کرنے لگے۔یوں با قاعدہ گرجوں میں ایسے مرتدین کے باہم رشتے اور جوڑ طے ہونے لگے۔اور یہ پیشگوئی اس رنگ میں بھی پوری ہوئی۔(ملخص از حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 332) آٹھویں علامت زندہ درگور کی جانے والی کے بارہ میں پرسش قرب قیامت کی آٹھویں نشانی یہ بیان فرمائی: وَإِذَا الْمَوْءُ دَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (التکویر 9-10) جب زندہ گاڑی جانے والی لڑکی کے بارہ میں سوال کیا جائے گا کہ آخر کس گناہ کے بدلہ میں اس کو قتل کیا گیا۔اس پیشگوئی میں اشارہ تھا کہ مسیح موعود کے زمانے میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا قانوناً جرم بن جائے گا اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس سے باز پرس ہوگی اور سزا دی جائے گی۔چنانچہ چودہویں صدی میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی اور انگریز حکومت نے 1870ء میں ایک قانون جاری کیا جس میں نومولود بچیوں کو گنگا رہانے سمندر میں ڈال دینے، صحیح نگہداشت نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کرنے اور ماں کے پستانوں پر زہر لگا کر قتل کرنے کی فتیح بے رحم رسم کی مذمت کی ( Act No viii of 1870 ) اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر کی۔(The Unrepealed General Acts of the Governor General in Council Vol 2 Page 165 From 1868 to 1876, Third Edition) اور یوں اس قانون نے اس پیشگوئی کو بھی پورا کر دیا۔جس کے نتیجہ میں ایک طرف عورت کے حقوق کی آواز بلند ہوئی اور معصوم لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کا خاتمہ ہوا۔دوسرے اسقاط حمل کے متعلق با قاعدہ قانون بن گیا اور یوں ناجائز قتل ہونے والی بچیوں کی باز پرس کا سلسلہ قانو ناشروع ہو گیا جو اس سے پہلے موجود نہ تھا۔