چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 214
214 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی ب۔اگرتبجیر کا معنی پھاڑنا اور خشک کرنا اور بحار کا معنی دریا لیا جائے تو اس آیت میں آب پاشی کی خاطر دریاؤں کو پھاڑ کر نہریں نکالنے کی بھی ایک پیشگوئی ہے۔جیسا کہ سورۃ الانفطار کی آیت وَإِذَا البحَارُ فُجِّرَتْ (الانفطار : 4) میں لفظ " تمجیر کا بھی ذکر ہے۔جس کے معنے پھاڑنے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ انگریز حکومت نے چودہویں صدی میں ہندوستان کے دریاؤں کو پھاڑ کراس میں نہروں کا ایک جال بچھایا۔ج تسجیر کے دوسرے معنی بھرنے (fill کرنے ) کے ہیں ان معنوں کے لحاظ سے اس آیت میں یہ پیشگوئی تھی کہ سمندر کشتیوں اور بحری جہازوں سے بھر جائیں گے۔چنانچہ چودھویں صدی میں بحری قوت میں غیر معمولی ترقی کے نتیجہ میں ایسا ہی ہوا۔د تبجیر کے تیسرے معنے جوش مارنے کے بھی ہوتے ہیں جیسے سورۃ الطور میں ” وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ “ ( الطُّور 7) جوش مارنے والے سمندر کی قسم کھائی گئی ہے۔اس لحاظ سے اس پیشگوئی میں آخری زمانہ میں زلازل کے نتیجہ میں سمندروں کے جوش مارنے اور ان میں سونامی وغیرہ کی پیشگوئی تھی جو سیح و مہدی کے زمانہ چودہویں صدی میں اس طرح پوری ہوئی کہ 27 اگست 1883ء کوانڈونیشیا میں سونامی کے نتیجہ میں جاوا اور سماٹرا کے 36000 افراد ہلاک ہوئے۔جون 1893ء میں جاپان میں 100 فٹ اونچی سونامی میں 27000 افراد لقمہ اجل بنے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔سا تو میں علامت نفوس کا باہم ملایا جانا قرب قیامت کی ساتویں نشانی یہ بیان فرمائی: وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتُ (النور: 8) جب نفوس ملا دیئے جائیں گے۔الف۔اس میں ایک یہ پیشگوئی تھی کہ مسیح کے زمانہ میں آمدروفت اور رسل و رسائل کے ذرائع ترقی پر ہوں گے اور مختلف قوموں اور علاقوں کے افراد کا آپس میں ملاپ اور رابطہ بڑھ جائے گا۔جیسا کہ مسیح و مہدی کی چودہویں صدی میں شروع ہوا اور جدید ذرائع رسل و رسائل ومواصلات کے نتیجہ