چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 190
190 عکس حوالہ نمبر: 61 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات ہوا کرتا ہے وہ پیدا ہو گیا ہے۔ہماری باری چلی گئی ہیں اس لئے کہتا ہوں کہ ہم کسی اور کے زمانے میں ہیں۔میں نے پوچھا کہ نام کیا ہے؟ تو فرمایا کہ نہیں بتاؤں گا مگر اس قدر بتلاتا ہوں کہ زبان اس کی پنچائی ایک دوسرے موقعہ پر حضرت صاحب کے خاص خلیفہ مولانا حمید اللہ حمید (سوات) بنایا کرتے ہیں کہ ایک روز ہمارے مرشد حضرت صاحب کو ٹھر والے فرمانے لگے کہ مہدی پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر ہوا۔اس بات کو سن کر فضیلت پناه مولوی محمد خیلی اخونزادہ اس بات پر مصر ہوئے کہ اس بیان کو خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر تحریر کریں پیس میں محکم آيت ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فانه اثم قلبه خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں کہ حضرت صاحب کو ٹھر ایک دو سال اپنی وفات سے پہلے یعنی 129ھ یا ساتھ میں اپنے چیند خواص میں بیٹھے ہوئے تھے، اور ہر ایک باپ سے معارف اور اسرار میں گفتگو شروع تھی۔ناگاه مهدی (مجرد) کا تذکرہ درمیان آگیا۔فریح لگے کہ مہدی (مجرد) پیدا ہو گیا ہے۔ان کے منہ سے یہ الفاظ افغانی زبان میں نکلے تھے " چہ مہدی پیدا شوے دے او وقت ظہور نہ دے " یعنی مہدی پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔بعد اس کے حضرت موصوف نے سلخ ذی الحجمد ۹ ا ھ میں وفات پانی۔حضرت جی صاحب کی گفت اور کشف کے مطابق ان کی خیال کی آخری دہائی میں درج ذیل تجتدین و اولیاء اللہ پیدا ہو چکے تھے :