چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 141 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 141

141 عکس حوالہ نمبر: 42 چاند وسورج گرہن کبھی بہاری امام محمد باقر عیال دام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے میت خروج عطیہ اور لباس میں کچھ کہ نایت فرمایا اور یہ بھی ارشاد ہوا کہ تمہارے ہم نے سے پہلے ہی ہم نے یہ تمہارے لیے رکھ چھوڑا تھا۔الارشاد ۲۱) مناقب ابن شہر آشوب جلد ۳ صفحہ ۳۲۷ میں بھی عمرو اور سید اللہ سے اسی طرح مروی ہے۔کتاب الارشاد میں سلیمان بن ترمیم سے۔نقول ہے کہ امام محمد باقر عد السلام میں پانچ کچھ سوسے ہزار درہم تک عطافرمایا کرتے تھے اور کسی وقت بھی اپنے بھائیوں عرض مندوں اور اپنی ذات سے امید و آرزو رکھنے والوں کو عطا کرنے سے رنجیدہ و ملول نہیں ہوئے۔(الارشاد ص۲۸۳) یہی روایت مناقب ابن شهر آشوب جلد ۲ صفحہ ۳۳۷) میں ہزار درہم کے الفاظ تک بیان کی گئی ہے۔کتاب الارشاد میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ سے آپ کی حدیث مرسل بلا حوالہ سند کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب میں کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور اس کی سند کو بیان نہیں کرتا تو اس کی سند اسی طرح ہوتی ہے کہ مجھ سے مرے بھی بند گوار نے بیان کیا اور ان سے میرے جد نامدار امام حسین عملیات نام نے اور ان سے ان کے جد امجد بجناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ ا کہ تم نے فرمایا اور آپ سے جبرئیل امین نے بیان کیا اور ان سے خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا۔حضرت امام نے فرمایا کہ م پرلوگوں کا معاملہ بڑی مصیبت ہے کہ ہم انہیں حق کی طرف ہوتے ہیں تو وہ جواب نہیں دیتے اور ہماری آواز پر لبیک نہیں کہتے اگرہم انہیں چھوڑ دیں تو ہمارے علاوہ کسی دوسرے سے ہدایت نہیں پاسکتے آپ نے ارشاد فرمایا کہ وگ ہم سے کیوں بچتے ہیں اور ہم میں کیوں عیب نکالتے ہیں ہم اہل بیت رحمت میں شجر ثبوت اور علم وحکمت کی کمان اور معدن ہیں ہم وہ جہ ہی یہاں فرشتوں کا نزول ہوا اور وحی اتری۔ر الارشاد (۳۸) ។ امام وارث علوم انبیا رہیں مناقب ابن شہر آشوب میں مسند ابو حنیفہ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ روای کہتا ہے جب بھی میں نے کسی مسئلہ میں جابر جعلی سے کچھ دریافت کیا تو انہوں نے اس کے بارے میں حدیث پیش کی اور جب وہ امام محمد باقر علیرات نام کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو یوں کہتے تھے کہ مجھے سے ونسی الا رمیا ، اور وارث علوم انبیاء نے یہ بیان فرمایا ہے۔ابو نعیم نے ملیتہ الا لیا میں ام محمد باقر علیات سلام کی شان میں اس طرح کے الفاظ کہے یں کہ وہ امام حاضرذاکر خاش ما بر حضرت ابو عفرمحمد بن علی باقر علیات اہم ہیں۔حلیة الاولیا بعد منتال)