چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 113 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 113

113 عکس حوالہ نمبر: 32 61 رسال کرد که این پیشین گوئی حضرت رسول اله صلی الہ علیہ السلام بابائے ظهور مهدی موعود فرموده بودند۔اکنون تمام شده است بر همه واجب که مهدیت من اعتراف کنید و اقرار نمائید پس مولویان وقت طفلا در سوال کردند که از حدیث ترین این منی برمی آید که از اول شب رمضان خسوف قمر شود و در نیمه رمضان وان شمس گردد و این خسوف بتاریخ سیر و هم رمضان واقع گشته دا سون تاریخ است درشتم ریضان بوقوع آمده این خلاف منطوق حدیث ایستان سوف و کسوت دیگر خواهد بود که در زمان مهدی بر حق وقوع باید بعد ازان حضور نور خواجہ البقاه السد تعالیٰ سبقائه فرمودند سبحان الله بشنوید آنچه مرزا صاب معنی حدیث شریف مذکور بیان نموده و مولویان منگران را جواب داده است مردان صاحب گفته که معنی حدیث شریف این است که برای تائید و تصدیق محمدی مام دو نشان مقر اند از ان مدت که آسمانها و زمین پیدا شده اند آن دو نشان در وقت کے مدعی بطور نیامده و آن دو نشان این است که در وقت ادعا مهدی موعود خوست قمر در آن اول شب خواهد بود که آن شب از سه شب خسون اول است یعنی شب سیز د امر انه رمضان دکسون شمس دران روز خواهد بود که از ایام کسوف در میاند روز است یعنی بیست در شتر از معنان بعد انسان حضور فرمودند که بیشک معنی حدیث شریف این چنین است که مرزا صاحب بیان کرده چه فسون تمر میں تاریخ سیزدهم یا چهاردهم با پانزدهم ماه واقع میشو دوکسون شمس همیشه در تاریخ بیست و هفتم با بیست و شتر با بیست دهم ماه بوتو می آید پس فسوف قمر که تاریخ مش تر از ماه اپریل ۱۸۳ ۶ بروده صد و نود و چهارم عیسوی واقع چاند وسورج گرہن ترجمہ: اس زمانہ کے مولویوں نے یہ طفلانہ سوال کیا ہے کہ حدیث شریف سے یہ معنے ظاہر ہوتے ہیں کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور اسی ماہ رمضان میں سورج کو بھی گرہن ہوگا اور یہ چاند گرہن رمضان کی تیرھویں تاریخ کو واقع ہوا ہے اور سورج گرہن رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ کو واقع ہوا ہے اور یہ بات حدیث شریف کے فرمان کے خلاف ہے۔وہ کسوف و خسوف کوئی اور ہوگا جو کہ مہدی برحق کے زمانہ میں واقع ہوگا۔اس کے بعد خواجہ صاحب ابقاء اللہ ببقائہ نے فرمایا: سبحان اللہ اسکیے حضرت مرزا صاحب نے مذکورہ حدیث کے کیا معنی کئے ہیں اور منکر مولویوں کو کیا جواب دیا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دونشان مقرر ہیں۔اس وقت سے کہ جب سے آسمان وزمین پیدا ہوئے یہ دونوں نشان کسی مدعی کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے اور وہ دونشان یہ ہیں کہ مہدی موعود کے دعوئی کے وقت چاند گرہن پہلی رات کو ہوگا اور وہ چاند گرہن کی تین راتوں میں سے پہلی رات یعنی تیرھویں رات ہے۔اور سورج گرہن اس دن ہوگا کہ سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانہ دن یعنی ماہ رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ ہے۔اس کے بعد حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا کہ بے شک حدیث شریف کے معنی اس طرح ہیں جس طرح حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمائے۔کیونکہ چاند گرہن ہمیشہ مہینہ کی تیرہ ، چودہ ، پندرہ تاریخ میں واقع ہوتا ہے اور سورج گرہن ہمیشہ مہینہ کی ستائیس ،اٹھائیں ، انتیس تاریخ میں واقع ہوتا ہے۔پس چاند گرہن 6 اپریل 1894 ء کو واقع ہوا۔