چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 94
94 چاندوسورج گرہن علامہ ابوسلیمان حمد بن محمد خطابی (متوفی: 388ھ) نے یہ بات بخاری کی حدیث :۔"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ الله کہ سورج اور چاند اللہ تعالی کے نشانوں میں سے دونشان ہیں اور کسی کی موت یا پیدائش کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں ہوتا کے ضمن میں بیان کی۔وہ تحریر فرماتے ہیں:۔اس بارے میں ایک تیسرا پہلو بھی بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالی کے نشانوں میں سے یہ دونوں نشان زمانہ قیامت کے قرب پر دلیل ہیں۔اور یہ دوائیسی نشانیاں ہیں جو قیامت کی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہیں جو اس (قیامت) سے پہلے ظاہر ہوں گی جیسا کہ قیامت کے قریب چاند وسورج گرہن کے بارہ میں خبر دیتے ہوئے فرمایا: - فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ القَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القيامة : 10-8 کہ جب نظر چندھیا جائے گی اور چاند گہنا جائے گا اور سورج اور چاند دونوں کو جمع کر دیا جائے گا ) اور بعض دفعہ یہ نشان اللہ تعالیٰ کے بندوں کو خوف دلانے کے لئے بھی ہوتے ہیں تا کہ وہ اپنی خطاؤں اور لغزشوں کی وجہ سے گھبرا کر تو بہ اور استغفار کی طرف رجوع کریں۔اور اس بات کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے:۔وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخُويُفا بنى اسرائيل : 60) یعنی ہم نشانات صرف اس لئے بھیجتے ہیں تا کہ خوف پیدا ہو جائے۔“ ملاحظہ ہو کسی حوالہ نمبر 26: اعلام الحدیث الجزء الاول صفحہ 612-1611 حیاء التراث مکہ المکرمہ