چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 84 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 84

84 امام مہدی کا زمانہ پیدائش حضرت بانی جماعت احمدیہ پر اس حدیث ” دو سو سال بعد خاص نشانات“ کا مفہوم توجہ کے نتیجہ میں کھولا گیا۔آپ فرماتے ہیں:۔عکس حوالہ نمبر : 22 روحانی خزائن جلد ۳ 1A9 ازالہ اوہام حصہ اول آنے کا وقت چودہویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث و بلوی قدس سرہ کی بھی یہی رائے ہے اور مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے بھی اپنے ایک رسالہ میں ایسا ہی لکھا ہے اور اکثر محدثین اس حدیث کے معنے میں کہ جو الآیات بعد المأتين ہے اسی طرف گئے ہیں۔اگر یہ کہو کہ مسیح موعود کا آسمان سے دمشق کے منارہ کے پاس انترنا تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے تو اس کا جواب میں اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس بات پر ہر گز اجماع نہیں قرآن شریف میں اس کا کہاں بیان ہے وہاں تو صرف موت کا ذکر ہے بخاری میں حضرت بحبسی کی روح کے ساتھ حضرت عیسی کی روح کو دوسرے آسمان پر بیان کیا ہے اور دمشق میں اترنے سے اعراض کیا ہے اور ابن ماجہ صاحب بیت المقدس میں اُن کو (۱۸۵) نازل کر رہے ہیں اور ان سب میں سے کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ یہ تمام الفاظ و اسماء ظاہر پر ہی محمول ہیں بلکہ صرف صورت پیشگوئی پر ایمان لے آئے ہیں پھر اجماع کسی بات پر ہے۔ہاں تیرہویں صدی کے انتقام پر مسیح موعود کا آٹا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔سواگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلا دیں۔صالحین کی اولاد ہو مسجد میں بیٹھ کر تفریع اور زاری کرو تا کہ عیسی ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لاویں اور تم بچے ہو جاؤ۔ورنہ کیوں ناحق بدظنی کرتے ہو اورز میر الزام آیت كريم لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم آتے ہو خدائے تعالی سے ڈرو۔لطیفه چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الأيات بعد الماتين ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیر ہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ (1) بنی اسرائیل: ۳۷ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احم نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا۔ہے کہ اسوقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ بعض اسرار اعداد حروف تنگی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔ایک دفعہ میں نے آدم کے سن پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈالو جو سورۃ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہیں میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔