چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 81
81 عکس حوالہ نمبر : 20 امام مہدی کا زمانہ پیدائش مرقاة شرح مشكوة أردو جلد دهم اسلام کو شان و شوکت حاصل ہونے کے وقت سے ہے۔122 حضور علیہ السلام کی وفات سے اس کی ابتداء مراد ہے۔كتاب الفتن یہ بھی احتمال ہے کہ المتین میں الف لام عبد کیلئے ہو، اور ” مائتین“ سے مراد ہزار سال کے بعد دو سو سال ہوں۔اور یہ وہ وقت ہوگا، جب قیامت کی چھوٹی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہونگی اور امام مہدی کے ظہور ، حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور، اور دوسری پے در پے علامات مثلاً مغرب سے سورج کے طلوع ہونے ، دابتہ الارض کے نکلنے، اور یا جوج ماجوج کے نکلنے کا زمانہ قریب ہو چکا ہوگا۔علامہ طیبی فرماتے ہیں "الآیات بعد المائتين مبتدا خبر ہیں (اور مضاف محذوف ہے) ای تتابع الآيات بعد الماتين" ہے (یعنی قیامت کی نشانیوں کا پے در پے ظاہر ہونا دو سور ۲۰۰ سالوں کے بعد ہوگا۔) اور اس کی تائید گذشتہ حدیث کے جملے "و آيات تتابع كنظام قطع سلكه فتتابع سے ہو رہی ہے بظاہر دو سور ۲۰۰ سالوں کا اعتبار اس حدیث کے بیان کے بعد سے ہے ( انتھی) اور عقل مند لوگوں کیلئے اس توجیہ کا غیر واضح ہونا پوشیدہ نہیں۔تخریج: اسی طرح حاکم نے مستدرک حاکم میں بھی نقل کیا ہے۔۵۳۶۱ : وَعَنْ تَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ فَاتَرُهَا فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ - رواه احمد وَالْبَيْهَقِي فِي دَلَا لِلَ النُّبُوَّةِ اخرجه الترمذي في السنن ٤٦٠٢٤ حديث رقم ٢٢٦٩ وابن ماجه في السنن ١٣٦٧/٢ حديث رقم ٤٠٨٤ والبيهقي في دلائل النبوة ٥١٦/٦ ترجمہ : " حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” جب ایسے سیاہ جھنڈوں کو دیکھو جو خراسان کی جانب آئے ہوں تو تم ان کا ستقبال کرنا کیونکہ اس میں اللہ تعالٰی کے خلیفہ حضرت مہدی ہوں گے۔اس روایت کو امام احمد نے اور دلائل النبوۃ میں بیہقی نے نقل کیا ہے“۔تشریح : قوله: اذا رايتم۔۔۔۔۔۔فاتوها : رأيتم : اس سے عام خطاب مقصود ہے اور رؤية" سے رویت بصری مراد ہے۔ممکن ہے کہ ” سواد خراسان کی جانب سے آنے والے مسلمانوں کے لشکروں کی کثرت سے کنایہ ہو، بظاہر یہ حارث اور منصور کے لشکر ہونگے۔فأتوها: ضمیر منصوب ” الرايات " کی طرف راجع ہے، یعنی ان جھنڈوں کی طرف متوجہ ہو جانا اور ان کے حاملین کا استقبال کرنا اور ان لشکروں کے امیر کا حکم قبول کرنا۔قوله فان فيها خليفة الله المهدى