چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 63
۵۳۲ 63 عکس حوالہ نمبر:13 نزول مسیح اور ارشادات نبویہ علی کتاب الانبیا (۲۰۵۰) باب: حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے اترنے کا بیان حدیث: (۳۲۱۷) عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تُحْشَرُونَ حُفَاةٌ غُرَاةً عُزلاً ثمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ فَاوَّلُ مَنْ يُكْسَى إبْرَاهِيمُ ثمَّ يُؤخَذُ بِرِجالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ اليَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ فَاقُولُ أَصْحَابِي فيُقالُ الهُم لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُندَ فَارَقْتَهُمْ قَالُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَادُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الْحَكِيمُ ذُكِرَ عن أبي عبدِ اللَّهِ عَن قَبِيْصَةَ قَالَ هُمُ الْمُرْتَدُونَ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَاتَلَهُمْ أَبُو بَكْرٍ ) ترجمہ حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ (قیامت کے دن قبروں سے ) ننگے پاؤں، نگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے پھر آپ ﷺ نے (سورہ انبیار کی ) یہ آیت تلاوت کی "كما بدان" الآیہ جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا ویسے ہی ہم دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے جو ضرور ہم پورا کریں گے اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے (پھر اور پیغمبروں کو ) پھر میرے اصحاب میں سے کچھ تو داہنی (جنت کی) طرف لیجائے جائیں گے اور بعضوں کو بائیں (دوزخ کی) طرف تو میں کہوں گا (ہائے ہائے ان کو دوزخ کی طرف کیوں لیجاتے ہو؟) یہ تو میرے اصحاب ہیں تو مجھے بتایا جائے گا ( فرشتے کہیں گے آپ کو معلوم نہیں ) جب سے آپ نے ان کو چھوڑا اس وقت انہوں نے ارتداد اختیار کر لیا، میں اس وقت وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسی بن مریم علیہا السلام نے کہا کہ میں جب تک ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا پھر جب تو نے مجھے کو اٹھا لیا تو آپ ہی اس کے نگہبان تھے اور آپ ہر چیز کے نگہبان ہیں ارشاد العزیز الحکیم تک۔محمد بن یوسف فریری نے کہا ابوعبداللہ یعنی امام بخاری نے قبیصہ (اپنے شیخ) سے نقل کیا کہ مرتدین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت ابو بکر کے عہد خلافت میں ارتداد اختیار کیا تھا اور ابو بکر نے ان سے جہاد کیا مطابقة للترجمة مطابقة الحديث للترجمة في قوله "عيسى بن مريم"۔تعدد موضعه و الحديث هناس ۴۹۰ ، وهو الحديث ص ۴۷۳ ، وياتی ص ۶۶۵ ، ص ۱۹۳ ، ص ۹۶۶ - ۲۰۵۰ در باب نُزُولِ عِيسَى بنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام کے ( آسمان سے اترنے کا بیان ۳۲۱۷ و حَدَّتَنَا إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَن صَالِح عن ابن شهاب جلد السلام بغیر الباری نوٹ: یہاں مترجم نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا ترجمہ اپنے عقیدہ کے مطابق اٹھالیا کیا جو انصاف کا خون ہے اور تحریف کے زمرہ میں آتا ہے۔یہ ترجمہ اس لئے خلاف واقعہ ہے کہ رسول اللہ علیہ کے بارہ میں بھی یہی جملہ آیا ہے اور آپ اپنی مسلمہ وفات کے بعد خدا تعالیٰ کے حضور یہ کیسے عرض کر سکتے ہیں کہ ” جب تو نے مجھے اٹھا لیا۔“