چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 54
54 بائبل میں مسیح موعود کا سن ظہور انجیل میں مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی میں زمانہ کی علامات اور نشانیاں جنگیں ، قحط، زلازل، چاند سورج گرہن ،ستاروں کا گرنا وغیرہ بیان کی گئی ہیں جو من و عن تیرھویں صدی ہجری اور انیسویں صدی عیسوی کے زمانہ پر چسپاں ہوتی ہیں، جس میں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔متی باب 24 میں ہے کہ :۔”اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آ کر کہا ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا ؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا۔۔تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔خبر دار ! گھبرا نہ جانا ! کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضروری ہے لیکن اسوقت خاتمہ نہ ہوگا۔کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہوں گی۔۔۔۔۔جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھتم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔۔۔ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قو تیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا۔اور اس وقت زمین کی سب قو میں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔اور وہ نر سنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اس کنارے سے اس کنارے تک جمع کریں گے۔“ ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 10: بائبل متی باب 24 آیات 3 تا 39۔پاکستان بائبل سوسائٹی انارکی، لاہور