چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 33 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 33

33 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر حديث لا المهدى الا عیسیٰ ابن مریم کہ عیسی کے سوا کوئی مہدی نہیں ) کے پیش نظر ہو جیسا کہ علامہ ابن عربی ( متوفی : 628ھ) نے اس کی تصریح بھی کی ہے (جس کا آگے ذکر ہوگا)۔نزول ابن مریم کے معنی اس لئے بھی قابل قبول نہیں کہ إِنَّهُ “ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے مسیح ناصری کی بجائے قرآن کو قرار دیا ہے۔فتح القدير للشوکانی جزء 4 صفحہ 643) البتہ اس آیت سے مہدی یا مثیل مسیح کا آنا ضرور مراد لیا جا سکتا ہے جیسا کہ آیت مذکورہ سے ما قبل آیات میں مثیل مسیح کے مضمون کے واضح اشارے موجود ہیں جہاں دو دفعہ مثل کا لفظ آیا ہے جس کے معنی نظیر کے ہوتے ہیں اور جس میں ظہور مثیل ابن مریم کی پیشگوئی ہے۔فرمایا:۔وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (الزخرف: 58) یعنی جب ابن مریم کو بطور مثیل پیش کیا جائے تو آپ کی قوم اس پر تالیاں پیٹتے ہوئے شور مچا کر استہزاء کرے گی۔چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کے مثیل مسیح ہونے کے دعوئی پر استہزاء اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ایک قرینہ ہے۔اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔د یعنی قرآن مجید میں ابن مریم کے دوبارہ آنے کی خبر جب پڑھتے ہیں تو شور مچادیتے ہیں کہ کیا وہ ہمارے معبودوں سے اچھا ہے کہ ہمارے معبودوں کو تو جہنم میں پھینکا جاتا ہے اور اسے دنیا کی اصلاح کے لئے واپس لایا جاتا ہے۔حالانکہ دونوں واقعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔مسیح علیہ السلام خود اپنی بندگی کا اقرار کرتا ہے اور وہ مرد صالح تھا اس کا مقابلہ مشرکوں یا مشرکوں کے سرداروں سے نہیں 66 ہوسکتا ، ( نوٹ تفسیر صغیر زیر آیت ہذا صفحہ 650)