چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 273 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 273

273 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ آپ کے صحابہ کو ملک حبشہ کی ایک عادل عیسائی حکومت میں ہجرت کر کے پناہ لینی پڑی۔5۔مکہ میں مسلمانوں کو تبلیغ کا بھی حق حاصل نہ تھا۔حالانکہ مسلمانوں کیلئے فریضہ تبلیغ جہاد کبیر کا درجہ رکھتا ہے۔(سورہ الفرقان : 53) مگر کفار قریش نے رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی تبلیغ پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔مسلمانوں کی بات سنے کیلئے آنیوالوں کو بھی روکا جا تا اور جب رسول کریم ہر جے اور عرب کے میلوں پر اپنا پیغام پہنچانے جاتے تو ابولہب اور اس کے ساتھی شور مچا کر اس میں روک ڈالتے۔مجبوراً آپ طائف تبلیغ کرنے گئے تو انہوں نے بھی مار مار کر لہولہان کر کے نکال دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 ص (492) 6۔مکہ میں کلمہ گو مسلمانوں کی دیگر عبادات پر بھی پابندی تھی۔کفار انہیں قرآن کریم کی تلاوت سے بھی منع کرتے۔اور کہتے کہ جب وہ تلاوت قرآن کریں تو شور مچا دیا کرو۔اس طرح تم غالب آ سکتے ہو (سوره حم السجدہ : 27) حضرت ابو بکر صبح نماز میں بآواز بلند قرآن پڑھتے تو کفار اس بہانہ سے منع کرتے کہ ہماری عورتوں بچوں پر اثر ہو جاتا ہے۔بالآخر تلاوت کرنے کے اصرار پر حضرت ابوبکر کو شہر مکہ چھوڑ دینے کی سزا سنائی گئی۔(بخاری کتاب الكفالة باب جوار ابي بكر في عهد النبي) سزاسنائی الله 7۔تیرہ سال تک مسلمان قریش مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے۔رسول اللہ یہ 14 ویں سال کے دوسرے مہینے صفر کے آخر تک مکہ میں مقیم رہے۔(دلائل النبوة للبيهقى جزء2 صفحه 465) 24 صفر بمطابق 7 ستمبر 622ء کو پہلے پہر سردارانِ قریش نے بقول علامہ صفی الرحمن مبارکپوری مکہ کی پارلیمان دارالندوہ میں رسول کریم ﷺ کے خلاف قید یا قتل کرنے یا مکہ سے نکال دینے کی قرار داد بالاتفاق منظور کی۔(الرحیق المختوم اردو ترجمه صفحه 227) تو اسی شب باذن الہی آپ حضرت ابوبکر کے ساتھ گھر سے نکل کر جانب جنوب مکہ سے تین میل پر غار ثور میں پناہ گزیں ہو گئے۔چوتھے روز 28 صفر بمطابق 11 ستمبر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔مگر یہاں بھی دشمن نے تعاقب کیا۔علامہ مبارکپوری نے بحوالہ رحمۃ للعالمین مصنفہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری 27 صفر کورسول اللہ کے بغرض ہجرت مدینہ نکلنے کا ذکر کیا ہے جو دراصل غار ثور سے نکلنے کی تاریخ ہے۔