چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 272
272 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے کنارہ کشی کرنا خواہ درخت کی جڑیں بھی چبانی پڑیں یہاں تک کہ تجھے موت آجائے اور تو اسی حالت میں ہو۔(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوه في الاسلام) تہتر فرقوں والی حدیث مذکور میں بھی رسول کریم نے فرقہ ناجیہ کی نشانی مَا أَنَا عَلَيهِ وَاَصْحَابِی میں فرما دیا کہ اس سے مراد میرا اور میرے صحابہ کامذہب یا راستہ ہے۔یعنی رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نے جس طرح قرآنی تعلیم اور ارکان اسلام پر عمل کر دکھا یا وہی نمونہ اس ناجی فرقہ کا بھی ہوگا۔صلى الله۔رسول اللہ یہی کی سنت و اسوہ اور صحابہ کا طرز عمل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس سے ہر ذی شعور مسلمان بچہ بھی واقف ہے۔وہی کٹھن خار دار راہ جس پر چلتے ہوئے رسول الله ﷺ اور صحابہ کرام نے کفار مکہ کی سخت مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود کمال استقامت سے قرآن وسنت پر عملدرآمد کر دکھایا جس کی عملی تصویر یوں بنتی ہے:۔1۔رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کلمہ توحید ورسالت کا اقرار کر کے بڑے عزم و ہمت سے اس پر عمل پیرا ر ہے جبکہ ان کے مخالف کفار مکہ خود دین ابراہیمی کے دعویدار بن کر آپ ﷺ کو صابی ، یعنی نئے مذہب کے موجد گویا ناٹ مسلم قرار دیتے تھے۔(بخارى كتاب التيمم باب من يقتل ببدر ، معجم الكبير لطبراني جلد 4 ص 179 ، كنز العمال جلد 12 ص 450) صلى الله 2۔رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پنج وقتہ نمازیں ادا کرتے تو کفار انہیں عبادت سے روکتے تھے۔(سورہ العلق : 10 تا 11) مگر انہوں نے ماریں کھا کر بھی نمازیں ادا کیں۔کلمہ گو مسلمانوں کو اذان سے بھی روکا جاتا تھا۔نبی کریم ﷺ کے صحابہ نماز کیلئے اذان دیتے تو کفار شور مچا کر انہیں مذاق کا نشانہ بناتے تھے (سورہ المائدة 59:) بقول ابومحذورہ وہ خود اذان بلال کی نقلیں اتارنے میں پیش پیش تھے۔(طبقات الکبری جلد3 ص 234) 4 کلمہ گو مسلمانوں کا راستہ سرا پا مظلومیت اور کفار قریش کی راہ مسلسل ظلم تھی۔انہوں نے رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر مکہ میں متواتر تیرہ سال تک مظالم کئے ، تین سال تک ان کا بائیکاٹ کر کے شعب ابی طالب میں قید رکھا۔انہیں مارا پیٹا، ان کی مذہبی آزادی سلب کی۔پھر انہیں ناحق ان کے گھروں سے نکالاشی کہ ان کے قتل سے بھی باز نہ آئے۔(سورہ الحج: 40) مجبوراً5 نبوی میں