چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 220
آثار قدیمہ کا ظاہر ہونا 220 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی پھر فرمایا وَ إِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ (الانفطار : 5 ) یعنی جب قبریں اکھیڑی جائیں گی۔اس آیت میں تحقیقات آثار قدیمہ کی طرف اشارہ ہے کہ اس زمانہ میں مدفون بستیاں اور پرانے مقبرے اکھیڑ کر نعشیں مختلف عجائب گھروں میں رکھی جائیں گی۔جیسا کہ چودھویں صدی کے زمانہ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔سورة الانشقاق میں علامات زمانہ مہدی آسمانی نشانات کا تواتر : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّت الانشقاق:2) جب آسمان پھٹ جائے گا یعنی آسمان سے متواتر نشانات کے ظہور کا سلسلہ شروع ہوگا جیسا کہ حدیث میں موتیوں کی مالا ٹوٹنے سے پے در پے موتی گرنے کی طرح مسلسل نشانات کے ظہور کا اشارہ ہے۔( ترمذی ابواب الفتن بــاب مـا جاء في علامة حلول المسخ و اخسف ) چنانچہ حضرت مرزا صاحب کے دعوی مسیح و مہدی کے زمانہ میں ذوالسنین یعنی دمدار ستارہ کے طلوع ہونے (1882)، شہاب ثاقبہ کے گرنے (1885) اور چاند اور سورج کے گرہن (1894) جیسے واقعات مسلسل رونما ہوئے۔شہاب ثاقبہ اور سورج چاند گرہن کا تفصیلی ذکر پہلے ابواب میں آچکا ہے، دمدارستارہ کا مختصر ذکر پیش ہے:۔زوالسنین یعنی دمدار ستارہ کا نشان: دمدار ستارے جسامت میں چند سو میٹر سے 40 کلومیٹر تک کے ہوتے ہیں۔یہ مٹی ، چٹان اور برف کے ہوتے ہیں۔جب یہ ستارے نظام شمسی سے گزرتے ہیں تو سورج کی شعاؤں کے اثر سے ان میں بخارات اور ذرات اٹھتے ہیں جو کہ ان کے گرد ایک روشن ہالہ بناتے ہیں۔یہ ہالہ ایک دم کی صورت دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے انھیں دمدار ستارہ کہا جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ : مہدی کے خروج سے قبل مشرق سے ایک ستارہ نکلے گا جس کی چمکتی ہوئی دم ہوگی۔“ ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 66: عقد الدرر فی اخبار المنظر صفحہ 140 الطبعة الثانية مطبع مكتبه المنار اردن 1989ء