چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 218 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 218

218 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی سرفہرست ہیں کیونکہ اپنی ترقی کے نتیجہ میں ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم وغیرہ کی طاقت ان کے پاس ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا کو آن واحد میں خاکستر کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کر چکی ہیں اور جس کا ایک نظارہ جنگ عظیم دوم میں ہیروشیما اور ناگاساکی میں دیکھا گیا۔اسی لیے دجال اور یا جوج ماجوج کی ظاہری طاقت کے لحاظ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ لَا يَدَان لأحَدٍ بِقِتَالِهِمْ ( مسلم كتاب الفتن ) ان کے مقابلہ کی کسی کو تاب نہ ہوگی۔بارھویں علامت جب جنت قریب کی جائے گی الف- وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزُلِفَتْ (التكوير (14) اس آیت میں قرب قیامت کی بارہویں نشانی بتائی ہے کہ جنت کو قریب کر دیا جائے گا۔حدیث میں مذکور ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا اور وہ لوگوں کو یا جوج ماجوج کی بھڑکائی ہوئی ظاہری جہنم سے بچانے کے لیے دعا کا راستہ اختیار کرے گا اور بندوں کو طور پہاڑ یعنی عبادت اور دعا کی طرف بلائے گا اور دجال کے تہذیبی جہنم کو ایک جنت نظیر معاشرہ سے بدل دے گا۔حدیث دجال میں یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح ابن مريم يُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال ) اپنے ساتھیوں کو جنت میں ان کے درجات بتائے گا۔پس و اذَا الْجَنَّةُ ازْ لِفَت سے مراد ہے کہ مسیح و مہدی پر پختہ ایمان لا کر جان و مال کی قربانیاں کر نیوالوں پر جنت اس دنیا میں ایسی قریب کر دی جائے گی جیسے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو اس پر حق الیقین تھا۔چنانچہ دس صحابہ تو اسی دنیا میں جنت کی بشارت پا کر عشرہ مبشرہ کہلائے۔313 اصحاب بدر اور 1400 اصحاب حدیبیہ کو بھی اس دنیا میں پروانہ جنت ملا۔اور مدینہ کی جنت البقیع میں تو سینکڑوں جنتی صحابہ آسودہ خاک ہوئے۔ب۔اس آیت کا ایک اور مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب گناہوں کی کثرت ہوگی تو اس زمانہ میں تھوڑی نیکی کرنے والا بھی جنت کے قریب ہو جائے گا جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِندَ فَسَادَ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرٍ مِائَة شَهِيد یعنی جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لئے سوشہید کا درجہ ہے۔( مشکوۃ کتاب الایمان باب الاعتصام بالكتاب والسنة الفصل الثانی)