چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 205
205 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی ب۔دوسرے معنے پہاڑوں کے چلائے جانے کے یہ ہیں کہ اس وقت زلازل اس کثرت سے آئیں گے کہ پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر سرک جائیں گے۔یہ نشانی بھی اس زمانہ میں پوری ہوئی اور ظہور مسیح و مہدی کی چودہویں صدی میں اتنے زلزلے آئے کہ گزشتہ چودہ سوسال میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔تفصیل کیلیے دیکھیں پیسہ اخبار یکم مئی 1905ء) زلازل کے نتیجہ میں بعض دفعہ پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ جاتے ہیں۔جیسے چند سال قبل 2015 ء میں نیپال میں آنے والے زلزلہ نے زمین کی ہیئت بدل دی۔اور اس کی وجہ سے ہمالیہ پہاڑوں کی ایک چوڑی پٹی نیچے سرک گئی جبکہ ملحقہ کھٹمنڈو بیسن کی سطح بھی بلند ہوگئی اور یہ پورا خطہ جنوب کی جانب دومیٹر تک سرک گیا۔(بی بی سی اردو 17 دسمبر 2015ء) اسی طرح 2019ء میں میر پور آزاد کشمیر کے زلزلہ کے موقع پر زمین نے دائیں بائیں حرکت کی اور نہر کی طرف کھسکنا شروع ہوگئی۔(اخبار انڈیپنڈنٹ اردو 25 ستمبر 2019ء) ج۔اس نشانی کا تیسرا پہلو پہاڑ کے مجازی معنی سلاطین اور بڑی قومیں ہونے کے لحاظ سے ہے اور ان کے چلائے جانے سے مراد یہ کہ بادشاہوں کی قدر و منزلت کم ہو کر جمہوریت کی شروعات ہوگی اور قوموں کے عروج و زوال کا دور ہوگا جیسے اس زمانہ عین چودھویں صدی میں شہنشاہ برطانیہ کا ہندوستان اور اپنی دیگر کالونیز میں زوال اور روس میں زار خاندان کی بادشاہی کا تاراج ہونا۔(حضرت بانی جماعت احمدیہ کی پیشگوئی زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال زار کے من وعن پورا ہونے کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 388-386 ایڈیشن 2007ء) سورۃ طور میں بھی ان معنی کے لحاظ سے بادشاہوں اور قوموں کی اس ہلاکت کو جھٹلانے سے وابستہ کیا ہے۔فرمایا: وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (الطُّور 11-12) یعنی بادشاہوں اور قوموں کے زوال کا یہ نشان دیکھ کر بھی جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہوگی۔جیسا کہ ان نشانات کے ظہور کے بعد مسیح و مہدی کو جھٹلانے والوں کیلیے طاعون اور زلازل وغیرہ سے ہلاکت حصہ میں آئی۔