چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 201 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 201

201 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی سورۃ تکویر کی ابتدائی بارہ آیات میں جو بارہ علامتیں شروعات قیامت کی بیان ہوئیں ان کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیان فرمودہ تفسیر کے علاوہ صحابہ نے بھی آپ سے علم پا کر یہی تفسیر بیان کی ہے۔چنانچہ حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس اور ابوالعالیہ اس پر متفق ہیں کہ ان آیات میں سے ابتدائی چھ آیات کا تعلق بہر حال دنیا سے ہے۔( الدر المنثور فی التفسیر بالماثور جز 80 صفحه 427 دار الفکر بیروت تفسیر البغوی جزء 5 صفحہ 215 دارا حیاء التراث العربی، بیروت الطبعة الاولی 1420ھ ) سورۃ التکویر کی بقیہ چھ آیات کے بارہ میں ایک صاحب بصیرت خود جائزہ لے سکتا ہے کہ اگر وہ بھی اس دنیا میں پوری ہورہی ہیں تو یہی بات پہلی چھ علامتوں کی طرح اپنی گواہ آپ ہے۔مزید برآں سورۃ تکویر کی مذکورہ ان بارہ نشانیوں کے بارہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے بھی ایک ایسے صوفیانہ لطیف نکتہ کا اشارہ دیا ہے جو ان علامات کے قیامت کبری کی بجائے قیامت صغریٰ میں پورا ہونے کی تائید کرتا ہے۔ان کے مطابق اہل تاویل کے نزدیک یہ بارہ حوادث اسی دنیا میں ہی ہر انسان کی موت کے وقت بھی پیش آتے ہیں جو ایک فردی قیامت صغری ہوتی ہے۔(تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 275) حضرات صوفیہ نے ان بارہ حالتوں کو مراتب سلوک طے کرنے پر نہایت لطیف پیرائے میں محمول کیا ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں مگر حضرت شاہ صاحب کے اس قول سے یہ ضرور ثابت ہو جاتا ہے کہ یہاں قیامت کبری کی بجائے اس دنیا سے تعلق رکھنے والے زمانہ کی علامات ہیں جو پوری ہو کر قیامت کبری پر گواہ ہیں۔رسول اللہ ﷺ اور قرآن شریف کی صداقت کو ظاہر کر رہی ہیں جیسا کہ ہر آیت کی الگ تفسیر سے ظاہر وباہر ہے۔ملاحظہ ہو:۔پہلی علامت۔سورج کا لپیٹا جانا إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ( التكوير : 2 ) یعنی جب سورج لپیٹا یاڈھانکا جائے گا۔الف۔یہاں روحانی سورج سے رسول اللہ ﷺ کا وجود مراد ہے جنہیں قرآن کریم نے بھی یہ نام دیتے ہوئے سراج منیر فرمایا ہے۔( الاحزاب (47) اس میں پیشگوئی تھی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب آنحضرت کی تعلیمات کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور خود تراشیدہ نئے نئے نظریات اور بدعات کا