چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 200 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 200

200 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی بلکہ اس سے مراد مسیح و مہدی کے ظہور کا زمانہ ہے جسے مجاز ا قیامت قرار دیا گیا ہے۔اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ان سورتوں میں بیان ہونے والی پیشگوئیاں تیرہ سوسال بعد ہمارے اس آخری زمانے میں بڑی صفائی سے پوری ہو کر ایک مدعی مسیح و مہدی کی سچائی پر گواہ بن کر یہ اعلان آفتاب آمد دلیل آفتاب کر رہی ہیں کہ یعنی سورج کا طلوع ہونا اپنی دلیل آپ ہوتا ہے۔قیامت صغریٰ کی ان علامات کا پورا ہونا قیامت کبری کے وجود پر دلیل بن سکتا ہے۔ورنہ سورتوں میں قیامت کے ثبوت میں محض اس کے ظہور کی علامات کا بیان کیسے دلیل ہوسکتا ہے؟ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ان علامات یعنی قیامت صغریٰ کو دیکھ لیا اس نے گویا اپنی آنکھوں سے قیامت دیکھ لی کہ وہ پھر آکر رہے گی۔دوسری طرف ان علامات کو قیامت کبری پر چسپاں کرنے سے ان کا سارا مفہوم ہی بگڑ جاتا ہے کیونکہ قیامت کو قانون نیچر معطل ہو گا جبکہ ان سورتوں میں دنیا میں موجود قوانین طبعی کی بات ہورہی ہے۔اس بات کی دوسری دلیل کہ ان سورتوں میں قیامت کبری کا نہیں بلکہ آخری زمانہ کی علامات صلى الله بیان ہیں، یہ ہے کہ رسول اللہ یہ نے سورہ تکویر کی ایک آیت وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ کی خود تغییر فرما دی کہ اس کا تعلق مسیح کے زمانہ ظہور سے ہے۔چنانچہ آپ نے مسیح کے ظہور اور اس کے کام و مقاصد بیان کرتے ہوئے اس کے زمانہ کی علامت یہ بیان فرمائی کہ:۔ر مسیح کے نزول و ظہور کا وہ وقت ہوگا جب اونٹنیاں متروک ہو جائیں گی اور ان کو تیز رفتاری کے لیے استعمال نہیں کیا جائیگا۔“ (مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسی بن مریم حا کما بشر بعتہ نہین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی نئی تیز رفتار سواریاں موٹر، ریل، جہاز وغیرہ ایجاد ہو جائیں گی جن کی پیشگوئی قرآن شریف میں چودہ سو سال سے موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ ایسی سواریاں پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے (النحل : 9)۔اور یہ زمانہ چودہویں صدی ہی ہے ( جس میں ان سواریوں کو جانوروں کی سواری پر تیز رفتاری میں برتری حاصل ہوگئی ) جس پر سورۃ تکویر میں بیان کردہ دیگر علامات چسپاں ہو رہی ہیں۔