چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 199 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 199

199 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی ہے۔اس مثال میں اگر انگلی کو رسول اللہ ﷺ کی عمر (63) سال شمار کیا جائے تو اس کے آٹھویں حصہ یعنی قریباً آٹھ سال بعد ہجرت نبوی مکہ فتح ہوا اور یہ پیشگوئی پوری ہوئی جو بوقت ہجرت اس اشاراتی زبان میں کی گئی تھی۔دوسری تاویل کی صورت میں اگر اس حدیث سے مراد قیامت کبری لی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آخری زمانہ اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا وہ دور شروع ہو چکا، جس کے آخر میں قیامت کبری ہے۔حشر اجساد کی اس بڑی قیامت سے پہلے رسول اللہ علیہ نے کئی اور علامات و نشانات کا ذکر بطور اشراط الساعة فرمایا ہے جن کا آغاز آپ کے دم قدم سے ہو گیا۔چنانچہ سورۃ محمد میں یہ اعلان فرمایا کہ:۔فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءتُهُمْ ذِكْرَاهُمْ (محمد(19) پس کیا وہ محض ساعت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے پاس آجائے پس اس کی علامات تو آچکی ہیں پھر جب وہ بھی ان کے پاس آجائے گی تو اس وقت اُن کا نصیحت پکڑنا اُن کے کس کام آئے گا۔سورة التکویر میں علامات زمانہ مہدی قرب قیامت اور اس کی شروعات کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قیامت کو اس طرح معلوم کرنا چاہے جس طرح آنکھوں دیکھی چیز تو اسے چاہیے کہ وہ سورۃ التکویر، سورۃ الانفطار اور سورۃ الانشقاق پڑھے۔“ (ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة اذا الشمس كورت) شیعہ لٹریچر میں بھی یہی حدیث درج ہے کہ:۔”جو شخص قیامت کو اس طرح معلوم کرنا چاہے جس طرح آنکھوں دیکھی چیز تو 66 وہ سورۃ تکویر پڑھے۔“ ( تفسیر مجمع البیان الطبرسی جزء 10 صفحہ 210 الطبعة الاولی مطبع دار المرتضی بیروت، لبنان 1427ھ تفسیر نورالثقلین جزء 8 صفحہ 119 الطبعة الاولی ، موسسة التاريخ العربی لبنان ) اس حدیث میں بھی قیامت سے مراد قیامت کبری نہیں جو دنیا کے فنا ہو جانے کے بعد ہوگی